حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 95
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات سمجھتے ہیں کہ اب کوئی تہذیبی روک نہیں، کوئی مذہبی روک نہیں ، ہر قسم کی آزادی ہے۔اس وقت اتفاق سے وہ رات بوسٹن اسٹیشن پر آئی۔مجھے خیال آیا جیسا کہ ہر احمدی کرتا ہے اس میں میرا کوئی خاص الگ مقام نہیں تھا۔اکثر احمدی اللہ کے فضل سے ہر سال کا نیا دن اس طرح شروع کرتے ہیں کہ رات کے بارہ بجے عبادت کرتے ہیں۔مجھے بھی موقع ملا۔میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا۔اخبار کے کاغذ بچھائے اور دونفل پڑھنے لگا۔کچھ دیر کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی شخص میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا ہے اور پھر نماز میں نے ابھی ختم نہیں کی تھی کہ مجھے سکیوں کی آواز آئی چنانچہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا انگریز ہے جو بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا ہے۔میں گھبرا گیا۔میں نے کہا پتہ نہیں یہ سمجھا ہے میں پاگل ہو گیا ہوں اس لیے شاید بیچارہ میری ہمدردی میں رو رہا ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں ہوا میری قوم کو کچھ ہو گیا ہے۔ساری قوم اس وقت نئے سال کی خوشی میں بے حیائی میں مصروف ہے اور ایک آدمی ایسا ہے جو اپنے رب کو یاد کر رہا ہے۔اس چیز نے اور اس موازنہ نے میرے دل پر اس قدر اثر کیا ہے کہ میں برداشت نہیں کر سکا۔چنانچہ وہ بار بار کہتا تھا: God bless you God bless you God bless you God bless you ( خدا تمہیں برکت دے۔خدا تمہیں برکت دے۔خدا تمہیں برکت دے۔خدا تمہیں برکت دے۔خدا تمہیں برکت دے۔) خطبه جمعه فرمودہ 20 راگست 1982 ، مطبوعہ الفضل ربوہ 31اکتوبر 1983 ) 95 95