حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 93 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 93

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات آپ فرماتے ہیں: ” مجھے یاد ہے گھانا میں ایک چیف کو میرے ہاتھ پر قبول حق کی توفیق ملی۔اس سے پہلے وہ مذہباً عیسائی تھے۔نرینہ اولاد کی حسرت دل میں لئے پھرتے تھے۔دو مرتبہ ان کی اہلیہ کا حمل ضائع ہو چکا تھا اور اب وہ مایوس ہو چکے تھے ، انہوں نے مجھے دعا کے لیے کہا۔کہنے لگے کہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بیٹا دے اور میری اہلیہ بھی صحت و عافیت اور خیریت سے رہے۔میں نے چیف اور اس کی بیگم کے لیے بڑی تضرع اور درد سے دعا کی اور انہیں لکھا کہ اللہ تعالیٰ میری اور ان کی دعاؤں کو ضرور شرف قبولیت بخشے گا۔کچھ مدت کے بعد ان کی طرف سے اطلاع ملی کہ خدا تعالیٰ نے دُعائیں سن لی ہیں اور انہیں ایک صحت مند بیٹے سے نوازا ہے“۔آپ فرماتے ہیں:۔” جب بھی کوئی مشکل در پیش ہو تو آپ خدا کے حضور دعا میں لگ جائیں اگر آپ دعا کرنے کو اپنی عادت بنالیں تو ہر مشکل کے وقت آپ کو حیران کن طور پر خدا کی مدد ملے گی اور یہ وہ بات ہے جو میری ساری عمر کا تجربہ ہے اب جبکہ میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں تو میں یہ بتا تا ہوں کہ جب بھی ضرورت پڑی اور میں نے خدا کے حضور دعا کی تو میں کبھی نا کام نہیں ہوا۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ (الفضل 5 اگست 1999 ء ) نے میری دعا قبول کی۔نماز کا التزام اور تعلق باللہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے پرائیویٹ سیکر یٹری مکرم منیر احمد جاوید صاحب لکھتے ہیں :۔آپ کو نماز سے اس قدر عشق تھا کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔آپ 93