حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 92 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 92

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر کے ایک سرے سے دوسرے تک فاصلے بہت طویل ہیں۔اتفاق کی بات ہے میرے پاس شہر کا نقشہ بھی نہیں تھا۔میں نے اپنی بیگم اور بچوں سے کہا کہ وہ کار ہی میں اطمینان سے سو جائیں۔میں خود گاڑی چلا رہا تھا۔پہلے چند مرتبہ سیدھے ہاتھ مڑا اور چند مرتبہ الٹے ہاتھ اور خاصی دیر تک گاڑی چلاتا چلا گیا۔میں نے ایک پٹرول پمپ پر گاڑی روکی اور وہاں سے مسجد احمد یہ میں فون کیا۔پتہ چلا کہ مسجد احمد یہ دو ایک گلیوں پر قریب ہی ہے۔اس سے ملتا جلتا واقعہ ناروے میں بھی پیش آیا۔ہم نے ایک راہ چلتے شخص۔انگریزی زبان میں یہ پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے میزبان کہاں رہتے ہیں۔اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ہاں۔بے شک وہ تو میرے پڑوسی ہیں اور ساتھ والے مکان میں رہتے ہیں۔ہالینڈ میں بھی ایسا ہی تجربہ ہوا۔ہم نے وہاں کچھ بچوں سے پوچھا ” بچو کیا بتا سکتے ہو کہ مسجد احمد یہ کہاں ہے؟ وہ بولے مسجد احمد یہ؟ واہ یہ کوئی بات ہے۔مسجد تو قریب ہی ہے۔آیئے ہمارے ساتھ آیئے۔“ ایسے واقعات بار بار اور ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ ہوئے اور اس انداز سے ہوئے ہیں کہ میرے لیے یہ کہنا ناممکن ہوگیا کہ میں انہیں محض اتفاق یا حادثہ کہ کر ٹال دوں۔دُعا کے متعلق سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔دن ہو یا رات دعا تو ہماری روح کی غذا ہے۔جس طرح زندگی کے لیے جسم کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روح بھی دعا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ایک مرد خدا صفحہ 348 تا 351) 92