حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 91 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 91

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات آپ کی قبولیت دعا کے چند واقعات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: دُعا کرتے وقت اگر چہ الہاما تو نہیں بتایا جا تا کہ میری دعا قبول ہوگئی لیکن قرآن کریم کی کوئی آیت اچانک میرے دل پر نازل ہو جاتی ہے جس کا بہت گہرا ربط اس مسئلے سے ہوتا ہے جس کے حل کے لئے میں دعا کر رہا ہوں تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ یہ ایک پیغام ہے اور اس امر کی علامت ہے کہ میری دعا قبول ہو گئی ہے۔میں جب دعا کرتا ہوں تو واقعات ایک ترتیب اور تسلسل سے نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں جنہیں کسی صورت میں بھی محض اتفاق نہیں قرار دیا جاسکتا۔یہاں تک کہ کسی ملحد یا منکر کے لئے بھی انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔میں آپ کو ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں :- یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میں اپنی بیگم اور بچوں کے ہمراہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سفر کر رہا تھا۔مجھے اندیشہ تھا کہ ایک نو وارد کی حیثیت سے بعض شہروں میں کہیں راستہ نہ بھول جاؤں۔اس امکان کے پیش نظر میں دعا میں لگ گیا۔اچانک ذہن میں قرآن کریم کی ایک آیت کوند گئی۔مجھے اطمینان ہو گیا کہ اب نہ تو راستہ بھولوں گا اور نہ ہی بھوک پیاس کی وجہ سے کسی قسم کی پریشانی لاحق ہوگی۔آدھی رات کے بعد کوئی ڈیڑھ بجے کے قریب ہم شکا گو پہنچ گئے۔شکاگو ایک وسیع وعریض شہر ہے اور میلوں تک پھیلا ہوا ہے۔عین ممکن ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی لمبائی ۹۶ میل سے قریب رہی ہو۔ہوسکتا ہے۔یہ اندازہ درست نہ ہو 91