حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 81
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات 197 ء میں آپ گھوڑے سے گر گئے کمر کے تین مہروں میں فریکچر تھا۔فرمایا :- ڈاکٹروں نے مجھے کہا کہ اب آپ کبھی بھی اکڑوں نہیں بیٹھ سکیں گے۔میں نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی خدایا میری ذمہ داریاں ایسی ہیں تو مجھے شفادے“۔تین ماہ تک آپ صاحب فراش رہے اور اس کے بعد معجزانہ رنگ میں اللہ تعالیٰ نے شفا دی اور آپ حسب سابق اپنی ذمہ داریاں ادا فرماتے رہے۔الحمد للہ علی ذالک ( حضرت مرزا ناصر احمد، از سیدہ طاہرہ صدیقہ ناصر ، صفحہ 168،167) اس (خُدا تعالیٰ ) کے ہاں کوئی بات انہونی نہیں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ربوہ میں مجھے ایک شخص کا خط ملا کہ اس کے دوعزیزوں کو سزائے موت کا فیصلہ ہوا ہے اور اصل مجرم تو بچ گیا ہے لیکن ہم جو مجرم نہیں انہیں سزامل رہی ہے۔ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔بظاہر بچنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔اب ہم رحم کی اپیل کر رہے ہیں۔ہمارے لئے دعا کریں۔چنانچہ میں نے انہیں لکھا کہ میں دعا کروں گا۔خدا تعالی بڑا ہی قادر اور رحیم ہے۔اس کے ہاں کوئی بات انہونی نہیں۔مایوس نہ ہوں۔چند دنوں کے بعد مجھے ان کا خط ملا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے عدالت نے انہیں اس جرم سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔( بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 25 ستمبر 2015 ء تا 1 /اکتوبر 2015 ، صفحہ 14) 81