حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 78
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات روشنی میں میں نے دیکھا کہ چہرے پر شرمندگی کے آثار تھے جیسے میں نے کوئی چوری پکڑ لی ہو۔اللہ سے محبت حیات ناصر، از محمود مجیب اصغر، صفحہ 218،217) آپ کی حرم ثانی محترمہ سید طاہر وصدیقہ ناصر صاحبہ فرماتی ہیں:۔حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثالث ) کا اپنے رب کے ساتھ تعلق حقیقت میں اپنے اندر کتنی گہرائی اور وسعت رکھتا تھا۔اس کی تفصیل تو نہ میں جانتی ہوں اور نہ بیان کرنے کی طاقت رکھتی ہوں۔لیکن آج بھی میرے کانوں میں اپنی نقار یر اور خطبات میں آپ کا بارہا کہا ہوا ایک لفظ شیرینی گھولتا ہے۔کس محبت سے آپ ”رب“ کا لفظ ادا کیا کرتے تھے۔اور ادائیگی کے اس انداز میں ہی بہت کچھ آجاتا تھا۔آپ کی زندگی کا مقصد ، اور آپ کے دل کی تڑپ صرف یہی تھی کہ دنیا میں ” تو حید خالص کا قیام ہو۔اور ساری دنیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔سواپنے رب کے حضور ہی التجا کرتے ہیں:۔”اے ہمارے اللہ! ہمارے پیارے رب ! تو ایسا کر کہ تیرے یہ کمزور اور بے مایہ بندے تیرے لئے بنی نوع کے دل جیت لیں اور تیرے قدموں میں انہیں لا ڈالیں۔ایسا کر کہ تا ابد دنیا کے ہر گھر اور ان گھروں میں بسنے والے ہر دل سے لا الہ الا اللہ مُحمد رسُول اللہ کی صدا اور دُنیا کی ہر زبان سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتار ہے۔“ از جلسہ سالانہ کی دعائیں صفحہ ۱۸) 78