حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 70 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 70

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات نواب زادہ میاں حامد احمد خان کے اعزہ میں سے تھے اور غیر از جماعت تھے۔ڈاکٹر پروازی صاحب سے ملے تو کہنے لگے بھئی مبارک ہو آپ کو نیا لیڈر بہت خوب ملا ہے ہم اکھٹے پڑھتے تھے۔اور ہم انہیں کہا کرتے تھے کہ آپ کے دادا جان کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن اگر آپ نبوت کا دعوی کر دیں تو ہم آپ کو مسیحا تسلیم کر لیں گے۔عاجز عرض کرتا ہے کہ یہ محض ایک نو جوانوں والا مذاق نہیں تھا۔حضور کے تقوی طہارت کا ایسا ہی اثر ملنے والوں پر ہوا کرتا تھا۔“ مجھے دُنیا کی طرف کوئی رغبت نہیں حیات ناصر، از محمود مجیب اصغر صفحه ۶۷،۶۶) اُردو میں جوانی دیوانی کا محاورہ مشہور ہے۔یعنی جوانی میں انسان سے غلطیاں اور لغزشیں ہو جاتی ہیں۔لیکن آپ کی جوانی اللہ اور اس کے رسول کی محبت اسلام اور بنی نوع انسان کی خدمت کے جذبہ سے سرشار تھی۔دراصل آپ در جوانی تو به کردن شیوہ پیغمبری کے مصداق تھے۔جوانی میں جبکہ دنیاوی اُمنگیں خوب انگڑائیاں لیتی ہیں آپ کا دل محض خدمتِ اسلام کے جذبہ سے لبریز تھا۔آپ کا تقوی وطہارت اور پاکیزہ جوانی کی بہتوں نے گواہی دی ہے۔مزید دو واقعات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔آپ اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے خاندان کے دوسرے نو جوانوں صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب وغیرہ کے ہمراہ انگلستان کے علاقہ ڈیون شائر کی ایک انگریز خاتون کے فارم میں چھٹیاں گزار نے تشریف لے جایا کرتے تھے آپ کے زمانہ خلافت میں سابق امام مسجد فضل لندن مکرم بشیر احمد رفیق صاحب کے استفسار پر اس معمر خاتون نے بتایا:۔وہ سامنے کمرہ ہے جس میں وہ ہمیشہ ٹھہرا کرتے تھے اور صبح صبح جب 70