حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 54 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 54

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات گریہ وزاری آہ و بکا کا عجیب عالم بچپن سے ہی آپ کے شوق عبادت، نہر کی عادت اور مسجدوں میں گریہ وزاری کا کھینچتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے ایک نہایت ایمان افروز واقعہ اپنی کتاب سوانح فضل عمر میں درج کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: بچپن ہی سے آپ کو عبادت الہی کا ذوق و شوق پیدا ہوا اور کم سنی ہی میں آپ نیم شی عبادتوں کے عادی ہو گئے۔متعدد روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نماز پنج وقتہ کے علاوہ تہجد کی نماز بھی بالالتزام ادا کیا کرتے تھے۔اور نماز کی ادائیگی محض رسمی اور ظاہری نہ تھی بلکہ بڑے خشوع و خضوع اور سوز و گداز کی حامل ہوا کرتی تھی۔ایک بچے یا نوجوان کا نمازوں میں گریہ وزاری کرنا اور سجدوں میں دیر تک پڑے رہنا یقیناً بڑوں کے لئے باعث تعجب ہوتا ہے۔خصوصاً اس وقت جبکہ ایسے بچے کو کوئی ظاہری صدمہ نہ پہنچا ہواور فکر کی کوئی دوسری وجہ بھی نظر نہ آئے یہ تعجب اور بھی بڑھ جاتا ہے اور دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس بچے پر کیا بیتی ہے جو راتوں کو چھپ چھپ کر اُٹھتا اور پلک پلک کر اپنے رب کے حضور روتے ہوئے اپنے معصوم آنسوؤں سے سجدہ گاہ کو تر کر دیتا ہے! یہی تعجب شیخ غلام احمد صاحب واعظ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی پیدا ہوا جو ایک نومسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اخلاص اور ایمان میں ایسی ترقی کی کہ نہایت عابد و زاہد اور صاحب کشف والہام بزرگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔آپ فرما یا کرتے تھے کہ: 54