حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 36
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات کی بلکہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر بنا دینا چاہتا ہے۔تب میں نے شرح صدر سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور صبر کے شکریہ میں دوسری کسی حاجتمند کو دیدی۔چند روز ہی اس واقعہ پر گزرے تھے کہ شہر کے ایک امیر زادہ کو سوزاک ہوا۔اور اس نے ایک شخص سے جو میرا بھی آشنا تھا کہا کہ کوئی ایسا شخص لاؤ جو طبیب مشہور نہ ہو اور کوئی ایسی دوا بتا دے جس کو میں خود بنا لوں۔وہ میرے پاس آیا اور مجھے اس کے پاس لے گیا۔میں نے سنکر کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں صدری ہے۔میں جب وہاں پہنچا تو وہ اپنے باغ میں بیٹھا تھا۔میں اس کے پاس کرسی پر جا بیٹھا۔تو اس نے اپنی حالت کو بیان کر کے کہا کہ ایسا نسخہ تجویز کر دیں جو میں خود ہی بنالوں۔میں نے کہا۔ہاں ہوسکتا ہے جہاں ہم بیٹھے تھے وہاں کیلا کے درخت تھے۔میں نے اس کو کہا کہ کیلا کا پانی ۵ تولہ لے کر اس میں ایک ماشہ شور قلم ملا کر پی لو۔اس نے جھٹ اس کی تعمیل کر لی۔کیونکہ شورہ بھی موجود تھا۔اپنے ہاتھ سے دوائی بنا کر پی لی۔میں چلا گیا۔دوسرے دن پھر میں گیا تو اس نے کہا مجھے تو ایک ہی مرتبہ پینے سے آرام ہو گیا ہے اب حاجت ہی نہیں رہی۔میں تو جانتا تھا کہ یہ موقعہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل نے پیدا کر دیا ہے اور آپ ہی میری توجہ اس علاج کی طرف پھیر دی۔میں تو پھر چلا آیا۔مگر اس نے میرے دوست کو بلا کر زربفت کمخواب وغیرہ کے قیمتی لباس اور بہت سے روپے میرے پاس بھیجے۔جب وہ میرے پاس لایا تو میں نے اس کو کہا کہ یہ وہی صدری ہے۔وہ حیران تھا کہ صدری کا کیا معاملہ ہے۔آخر سارا قصہ اس کو بتایا اور اس کو میں نے کہا زربفت وغیرہ تو ہم پہنتے نہیں۔اس کو بازار میں بیچ لاؤ۔چنانچہ وہ بہت قیمت پر بیچ لایا۔اب میرے 36 36