حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 100
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات ایئر پورٹ کے پاسپورٹ کنٹرول کے سامنے جنرل ضیاء کا اپنے دستخطوں۔جاری کردہ ایک حکم نامہ پڑا تھا۔یہ حکم نامہ ملک کے تمام ہوائی ،سمندری اور بری راستوں اور گزرگاہوں تک پہنچ چکا تھا، حکم نامے کے الفاظ یہ تھے۔”مرزا ناصر احمد کو جو اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کا خلیفہ کہتے ہیں، پاکستان کی سرزمین چھوڑنے کی ہرگز اجازت نہیں“۔اس لئے کراچی ائر پورٹ پر جہاز کی روانگی میں کچھ تاخیر ہوئی تو چنداں تعجب کی بات نہ تھی جنرل ضیاء کو ( حضرت ) خلیفہ ثالث سے اکثر سابقہ پڑتا رہا تھا۔اس لئے اس نے غلطی سے حکم نامے پر (حضرت) خلیفہ رابع یعنی (حضرت) مرزا طاہر احمد کی بجائے (حضرت) خلیفہ ثالث یعنی ( حضرت ) مرزا ناصر احمد کا نام اپنے ہاتھ سے لکھ دیا! جنرل ضیاء الحق نے پابندی لگائی بھی تو ( حضرت ) خلیفہ الثالث پر جو اس پابندی کے لگنے سے دوسال قبل وفات پاچکے تھے! (حضرت) خلیفہ رابع کے پاسپورٹ پر وضاحت سے لکھا ہوا تھا کہ ان کا نام ( حضرت ) مرزا طاہر احمد ہے اور یہ کہ وہ عالمی جماعت احمدیہ کے امام ہیں۔ائر پورٹ پر انتظار کی ان طویل گھڑیوں کے دوران پاسپورٹ کنٹرول آفس کی مصروفیت اور تگ و دو بھی قابل دید تھی۔اس الجھن کے حل کے لئے اسلام آباد سے مسلسل رابطہ کیا جارہا تھا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس گتھی کو سلجھانے کے لئے اگر کوئی افسر مجاز ملتا بھی تو کس طرح اور وہ بھی صبح کے دو بجے ، ڈیوٹی پر حاضر عملے نے جوابا یہی کہا کہ معلوم ہوتا ہے یہ کوئی پرانا حکم ہے جو شاید اب زائد المیعاد ہو چکا ہے۔بہر حال مصدقہ اطلاع یہی ہے کہ (حضرت) خلیفہ رابع ربوہ سے اسلام آباد جانے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں اور اب اسلام 100