حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 96
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات آنکھوں کی کایا پلٹنی شروع ہوئی حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰ جولائی ۱۹۸۶ء میں بیان فرمایا : ڈھاکہ کے ایک احمدی دوست اپنے ایک دوست کے متعلق جو احمدی نہیں لکھتے ہیں کہ میں ان کو سلسلے کا لڑ یچر بھی دیتا رہا اور کیسٹس بھی سناتا رہا۔جس سے رفتہ رفتہ ان کا دل بدلنے لگا۔جماعت کے لڑیچر سے وابستگی پیدا ہو گئی اور وہ شوق سے لڑیچر مانگ کر پڑھنے لگے۔اس دوران ان کی آنکھوں کو ایسی بیماری لگ گئی کہ ڈاکٹروں نے یہ کہہ دیا کہ تمہاری آنکھوں کا نور جا تار ہے گا اور جہاں تک دنیوی علم کا تعلق ہے ہم کوئی ذریعہ نہیں پاتے کہ تمہاری آنکھوں کی بصارت کو بچاسکیں۔اس کا حال جب اس کے غیر احمدی دوستوں کو معلوم ہوا۔تو انہوں نے طعن و تشنیع شروع کر دی اور یہ کہنے لگے اور پڑھو احمدیت کی کتا ہیں۔یہ احمدیت کی کتابیں پڑھ کر تمہاری آنکھوں میں جو جہنم داخل ہو رہی ہے اس نے تمہارے نور کو خاکستر کر دیا ہے۔یہ اسکی سزا ہے جو تمہیں مل رہی ہے۔انہوں نے اس کا ذکر بڑی بے قراری سے اپنے احمدی دوست سے کیا۔انہوں نے کہا کہ تم بالکل مطمئن رہو تم بھی دعا کرو میں بھی دعا کرتا ہوں اور اپنے امام کو بھی دعا کیلئے لکھتا ہوں اور پھر دیکھو اللہ کس طرح تم پر فضل نازل فرماتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں اس واقعہ کے بعد چند دن کے اندر اندر ان کی آنکھوں کی کایا پلٹنی شروع ہوئی اور دیکھتے دیکھتے سب نور واپس آگیا۔جب دوسری مرتبہ ڈاکٹر کو دکھانے گئے تو ڈاکٹر نے کہا اس خطرناک 96 96