حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 115 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 115

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات مبائع عرب احمدی دوست کو پولیس نے محض اس جرم میں قید کر لیا کہ اس نے احمدیت قبول کی ہے۔انہیں وزنی بیٹریاں ڈال کر جیل میں پھینک دیا گیا اور ضمانت منسوخ کر دی گئی اور میل ملاقات بند کر دی گئی۔انتہائی ظالمانہ سلوک کیا گیا۔کوئی مقامی وکیل کیس لینے کے لئے تیار نہ تھا۔بظاہر رہائی کے تمام دنیاوی راستے بند دکھائی دے رہے تھے۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ان کی رہائی کے لئے مسلسل دعائیں کر رہے تھے۔ایک دن حضور نے فرمایا انشاء اللہ یہ رہا ہو جائیں گئے۔ایک طرف حضور کی دعا تھی تو دوسری طرف رہائی کے تمام ممکنہ راستے بند تھے۔حضور انور کی قبولیت دعا کا نشان اس طرح ظاہر ہوا کہ اس عرب ریاست کے بادشاہ نے ایک تقریب کے موقع پر بعض قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تو ان رہا ہونے والے قیدیوں میں پہلا نام ہمارے نو مبائع احمدی اسیر کا تھا۔یہ کیسے ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ خلیفہ کے لب سے یہ الفاظ نکلے تھے کہ یہ انشاء اللہ رہا ہو جائیں گے۔عظیم نشانات عظیم اخلاص کو چاہتے ہیں۔اس عرب دوست کے لئے خلیفہ وقت کی قبولیت کا یہ نشان یونہی ظاہر نہیں ہوا بلکہ اس کی وجہ ان کا خلیفتہ المسیح سے اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔جب انہیں جیل میں ڈالا گیا تو انہیں بار بار کہا گیا کہ احمدیت سے دستبردار ہوجاؤ تو رہا کر دیے جاؤ گے۔لیکن ان کا جواب تھا میں جان دے دوں گا لیکن احمدیت نہیں چھوڑوں گا۔“ اس عرب دوست نے جیل سے خلیفہ المسیح کی خدمت میں لکھا ”میرے علاقہ میں نو پہاڑ ہیں اور اس علاقہ کا دسواں پہاڑ میں ہوں۔کوئی دھمکی، کوئی لالچ میرے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتی۔پس ان کا یہی اخلاص تھا کہ خلیفہ وقت کی دعا ان کے حق میں مقبول 115