حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 90
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات سے نواز ا الہام اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایسا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کے بعد اگر ساری دُنیا بھی انکار کر دے الہام پانے والا خدا کی ہستی کا کبھی انکار نہیں کر سکتا بلکہ وہ اس کی محبت میں ترقی پر ترقی کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔دراصل جب میں بچپن میں بھی دعا کرتا تو اسے قبولیت کا شرف حاصل ہو جا تا لیکن کبھی کبھی میں یہ بھی سوچا کرتا کہ کہیں اس احساس میں میرے اپنے ذہن ہی کا عمل دخل نہ ہو۔لیکن جب میں نے ہستی باری تعالیٰ کے ناقابل تردید ثبوت کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا اور میری عاجزانہ دعا ئیں اس کثرت سے قبول ہونے لگیں تو لا محالہ یہ امر بجائے خود میرے لیے ایک معین اور زندہ ثبوت کے طور پر کھل کر میرے سامنے آ گیا۔مجھے یقین ہے کہ قبولت دعا کے ان واقعات کا اتفاق یا حادثات سے ہرگز کوئی تعلق نہیں تھا۔یہاں تک کہ ہستی باری تعالیٰ کی یہ تائیدی شہادت پھیلتی بڑھتی اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی حتی کہ وہ وقت بھی آن پہنچا جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے براہ راست اپنے الہام کے انعام سے سرفراز فرما دیا۔قبولیت دعا اور تعلق باللہ ایک مرد خدا صفحہ 85،84) قبولیت دعا تعلق باللہ کی ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے۔اور جب خدا کسی کو اپنا خلیفہ بنالے تو پھر اُس کی دُعائیں بکثرت قبول کرتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص خلیفہ بننے کے بعد اپنے خدا سے تعلق میں بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔پس جس قدر تعلق بڑھتا جاتا ہے اُس کی دعائیں بھی قبولیت کے درجہ کو پہنچتی جاتی ہیں۔90