حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 23
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی تھے۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کوئی چوہا ہوگا خوف کی بات نہیں اور یہ کہ کر سو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی آواز آئی تب میں نے ان کو دوبارہ جگا یا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پروانہ کی۔پھر تیسری بارشہتیر سے آواز آئی تب میں نے ان کو سختی سے اُٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا۔ابھی دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور وہ دوسری چھت کو ساتھ لے کر نیچے جا پڑی اور سب بچ گئے۔(سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ ۲۱۶، ۲۱۷ روایت نمبر 236) سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ لاج رکھتا ہے اور انہیں ذلت و رسوائی اور شمانت اعداء سے بچاتا ہے۔چنانچہ آپ کے تعلق باللہ کا ایک دلچسپ واقعہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے:۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا اس وقت وہ حوالہ حضرت کو یاد نہیں تھا اور نہ آپ کے خادموں میں سے کسی اور کو یاد تھا لہذا شانت کا اندیشہ پیدا ہوا مگر حضرت صاحب نے بخاری کا ایک نسخہ منگایا اور یونہی اس کی ورق گردانی شروع کردی اور جلد جلد ایک ایک ورق اس کا الٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ 23