تعلیم القرآن — Page 2
تعارف تعلیم القرآن 02 عربی زبان میں ایک مادہ ہے۔یف ع ال [فعل ] اس مادہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اسکو عربی الفاظ کی ہر قسم کی شکل صورت میں ڈھالا جاسکتا ہے اور یہ ہر شکل میں بامعنی ہوگا۔فعل کو سہ حرفی مادہ کا وزن کہتے ہیں اور یہ ہر مادہ کی نمائندگی کر سکتا ہے۔اگر ہم کسی مادہ کے تینوں حروف پر ز بر لگا دیں تو یہ فعل ماضی بن جائے گا (اکثر صورتوں میں)۔فَعَل کا مطلب ہے [ اس نے کام کیا ] كَتَبَ [ اس نے لکھا] ، سَجَدَ [ اس نے سجدہ کیا ] كَفَرَ [ اس نے انکار کیا ] سَكَتَ [وہ خاموش ہوا ] تَرَكَ [ اس نے چھوڑا] خَتَمَ [ اس نے مہر لگائی] زَعَمَ [ اس نے گمان کیا ] قتل [اس نے قتل کیا ] اگر ہم مادہ کے پہلے حرف پر زبر لگا دیں، دوسرے پر زیر، تیسرے پر تنوین، اور پہلے اور دوسرے کے درمیان الف کا اضافہ کر دیں تو یہ فاعِل بن جائے گا جس کے معنے کوئی کام کرنے والا کتب سے كَاتِبٌ [لکھنے والا قتل سے قاتل قتل کرنے والا] نَصَرَ سے نَاصِرٌ [ مددگار ]۔] كَفَرَ كَافِرٌ [ر] ذَكَرَ سے ذَاكِرٌ (ذکر کرنے والا } صَدَقَ سے صَادِقٌ [ سچ بولنے والا ) ، لَا عِن لعنت بھیجنے والا)، زَاهِقٌ [ مٹنے والا]، غَافِر [ڈھانپنے والا] ، صالح [ نیک کام کرنے والا] ، ماكر [ تدبیر کرنے والا] [ 69 ل