تعلیم القرآن

by Other Authors

Page 118 of 120

تعلیم القرآن — Page 118

کلام حضرت بانی سلسلہ نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں نا گہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ یہ نور زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا ایسا چمکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا 118 جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعمی نکلا