حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 891
گیارہویں فصل 891 تقوى إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ۔(النحل : 129) اللہ تعالیٰ ان کی حمایت اور نصرت میں ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔تقویٰ کہتے ہیں بدی سے پر ہیز کرنے کو۔اور محسنون وہ ہوتے ہیں جو اتنا ہی نہیں کہ بدی سے پر ہیز کریں بلکہ نیکی بھی کریں۔اور پھر یہ بھی فرمایا لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى (يونس: 27) یعنی ان نیکیوں کو بھی سنوار سنوار کر کرتے ہیں۔مجھے یہ وحی بار بار ہوئی إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمُ مُحْسِنُونَ اور اتنی مرتبہ ہوئی ہے کہ میں گن نہیں سکتا۔خدا جانے دو ہزار مرتبہ ہوئی ہو اس سے غرض یہی ہے کہ تا جماعت کو معلوم ہو جاوے کہ صرف اس بات پر ہی فریفتہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں یا صرف خشک خیالی ایمان سے راضی ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت اسی وقت ملے گی جب سچی تقوی ہو اور پھر نیکی ساتھ ہو۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 653-652) تقویٰ کیا ہے؟ ہر قسم کی بدی سے اپنے آپ کو بچانا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابرار کے لئے پہلا انعام شربت کا فوری ہے۔اس شربت کے پینے سے دل بُرے کاموں سے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اس کے بعد ان کے دلوں میں برائیوں اور بدیوں کے لئے تحریک اور جوش پیدا نہیں ہوتا۔ایک شخص کے دل میں یہ خیال تو آ جاتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں یہانتک کہ چور کے دل میں بھی یہ خیال آ ہی جاتا ہے مگر جذبہ دل سے وہ چوری بھی کر ہی لیتا ہے لیکن جن لوگوں کو شربت کا فوری پلا دیا جاتا ہے ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں بدی کی تحریک ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ دل بُرے کاموں سے بیزار اور تنفر ہوجاتا ہے۔گناہ کی تمام تحریکوں کے مواد دبا دیئے جاتے ہیں۔یہ بات خدا کے فضل کے سوا میسر نہیں آتی۔جب انسان دعا اور عقد ہمت سے خدا تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرتا ہے اور اپنے نفس کو جذبات پر غالب آنے کی سعی کرتا ہے تو پھر یہ سب باتیں فضل الہی کو کھینچ لیتی ہیں اور اسے کا فوری جام پلایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائده: 28) بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں ہی کی عبادات کو قبول فرماتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ نماز روزہ بھی متقیوں ہی کا قبول ہوتا ہے پس پہلی منزل اور مشکل اس انسان کے لئے جو مومن بنا چاہتا ہے یہی ہے کہ بُرے کاموں سے پر ہیز کرے۔اسی کا نام تقویٰ ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 656-655) حصول تقوی قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ۔(المائده : 28) تقومی کے مدارج اور مراتب بہت ہیں۔لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِين۔(المائده : 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔یہ گویا اس کا وعدہ ہے۔اور اس کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوتا جیسے کہ فرمایا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد : 32) رپورٹ جلسہ سالانہ صفحہ 133 )