حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 865
865 بر کاروبار ہستی اثری ست عارفاں رہ ز جہاں چہ دید آں کس کہ ندید ایں جہاں را ( ترجمہ: - زندگی کے کاروبار پر عارف مؤثر ہوتے ہیں۔جس نے دنیا میں یہ نہیں دیکھا۔اس نے اس جہان کو نہیں دیکھا۔) ( برکات الدعا۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 31-30 حاشیہ ) جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک رحم مانگنے کے بعد پیدا ہوتا ہے مانگتے جاؤ گے ملتا جاوے گا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ کوئی لفاظی نہیں بلکہ یہ انسانی سرشت کا ایک لازمہ ہے مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے۔بچہ کی جو مثال میں نے بیان کی ہے وہ دعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔خدا کو خدا سے پانا ( ملفوظات جلد اول صفحہ 82) ہم اس کی وقیوم کو محض اپنی تدبیروں سے ہرگز پا نہیں سکتے بلکہ اس راہ میں صراط مستقیم صرف یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی زندگی معہ اپنی تمام قوتوں کے خدائے تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے پھر خدا کے وصال کے لیے دعا میں لگے رہیں تا خدا کو خدا ہی کے ذریعہ سے پاویں۔اور سب سے پیاری دعا جو عین محل اور موقعہ سوال کا ہمیں سکھاتی ہے اور فطرت کے روحانی جوش کا نقشہ ہمارے سامنے رکھتی ہے وہ دعا ہے جو خدائے کریم نے اپنی پاک کتاب قرآن شریف میں یعنی سورہ فاتحہ میں ہمیں سکھائی ہے اور وہ یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العلمین تمام پاک تعریفیں جو ہوسکتی ہیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا اور قائم رکھنے والا ہے الرحمن الرحیم وہی خدا جو ہمارے اعمال سے پہلے ہمارے لیے رحمت کا سامان میسر کرنے والا ہے اور ہمارے اعمال کے بعد رحمت کے ساتھ جزا د ینے والا ہے مالک یوم الدین وہ خدا جو جزا کے دن کا وہی ایک مالک ہے کسی اور کو وہ دن نہیں سونپا گیا ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے وہ جوان تعریفوں کا جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور ہم ہر ایک کام میں تو فیق تجھ ہی سے چاہتے ہیں اس جگہ ہم کے لفظ سے پرستش کا اقرار کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے تمام قومی تیری پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے آستانہ پر جھکے ہوئے ہیں کیونکہ انسان باعتبار اپنے اندرونی قومی کے ایک جماعت اور ایک امت ہے اور اس طرح پر تمام قویٰ کا خدا کو سجدہ کرنا یہی وہ حالت ہے جس کو اسلام کہتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا اور اس پر ثابت قدم کر کے ان لوگوں کی راہ دکھلا جس پر تیرا انعام واکرام ہے اور تیرے مورد فضل و کرم ہو گئے ہیں غیر المغضوب علیہم ولا الضالین اور ہمیں ان لوگوں کی راہوں سے بچا جن پر تیرا غضب ہے اور جو تجھ تک نہیں پہنچ سکے اور راہ کو بھول گئے آمین اے خدا ایسا ہی کر۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 382-381)