حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 866 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 866

866 دُعا کی اہمیت مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں تھکتے نہیں کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں ست نہیں ہوتے۔کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں۔کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائینگے۔مبارک تم جب کہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے۔اور تمہاری روح دعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اٹھا نیکے لئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنادیتی ہے۔کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم حیا والا صادق و فادار عاجزوں پر رحم مرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو جاؤ۔اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔خدا کے لئے ہارا ختیار کر لو اور شکست کو قبول کر لوتا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔دعا کرنے والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا۔اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائے گی۔دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نز دیک ہو جاتا ہے۔جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں۔مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلی ہے۔جس کو دنیا نہیں جانتی۔گویا وہ اور خدا ہے۔حالانکہ اور کوئی خدا نہیں۔مگرنئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کیلئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا۔یہی وہ خوارق ہے۔(لیکچر سیالکوٹ۔رخ جلد 20 صفحہ 223 222) وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ الآية (المومن: 61) یا درکھنا چاہیئے کہ قرآن شریف دہریوں کی طرح تمام امور کو اسباب طبیعیہ تک محدود رکھنا نہیں چاہتا بلکہ خالص توحید تک پہنچانا چاہتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے دعا کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور نہ قضا و قدر کے تعلقات کو جو دعا کے ساتھ ہیں تدبر کی نگاہ سے دیکھا ہے جو لوگ دعا سے کام لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے راہ کھول دیتا ہے۔وہ دعا کو رد نہیں کرتا۔ایک طرف دعا ہے دوسری طرف قضا و قدر۔خدا نے ہر ایک کے لئے اپنے رنگ میں اوقات مقرر کر دیئے ہیں اور ربوبیت کے حصہ کو عبودیت میں دیا گیا اور فرمایا ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المومن : 61) مجھے پکارو میں جواب دوں گا۔قضا و قدر کا دعا کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔دعا کے ساتھ معلق تقدیر مل جاتی ہے۔جب مشکلات پیدا ہوتے ہیں تو دعا ضرور اثر کرتی ہے۔جولوگ دعا سے منکر ہیں ان کو ایک دھوکا لگا ہوا ہے۔قرآن شریف نے دعا کے دو پہلو بیان کئے ہیں ایک پہلو میں اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا ہے۔