حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 853
853 ابتلاء میں لذت ہے غرض الفاظ وفا نہیں کرتے جو اس لذت کو بیان کر سکیں جو اخیار وابرار کو ان بلاؤں کے ذریعہ آتی ہے۔یہ لذت تمام سفلی لذتوں سے بڑھی ہوئی ہے اور فوق الفوق لذت ہوتی ہے۔یہ مصیبت کیا ہے؟ ایک عظیم الشان دعوت ہے جس میں قسم قسم کے انعام واکرام اور پھل اور میوے پیش کیے جاتے ہیں۔خدا اس وقت قریب ہوتا ہے فرشتے ان سے مصافحہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے مکالمہ کا شرف عطا کیا جاتا ہے اور وحی اور الہام سے اس کی تسلی اور سکینت دی جاتی ہے۔لوگوں کی نظر میں یہ بلاؤں اور مصیبتوں کا وقت ہے مگر دراصل اس وقت اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض کی بارش کا وقت ہوتا ہے۔سفلی اور سطحی خیال کے لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ بلاؤں اور غموں ہی کا وقت ہے جو مزا آتا ہے اور راحت ملتی ہے۔کیونکہ خدا جوانسان کا اصل مقصود ہے اس وقت اپنے بندے کے بہت ہی قریب ہوتا ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ قرآن جو دیا گیا ہے غم کی حالت میں دیا گیا ہے پس تم بھی اس کو غم کی حالت میں پڑھو۔غرض میں کہاں تک بیان کروں کہ ان بلاوں میں کیا لذت اور مزا ہوتا ہے اور عاشق صادق کہاں تک ان سے محظوظ ہوتا ہے۔مختصر طور پر یا درکھو کہ ان بلاؤں کا پھل اور نتیجہ جوا بر ار اور اخیار پر آتی ہیں۔جنت اور ترقی درجات ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 118) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَات (البقرة:156) کبھی ہم تم کو نہایت فقر وفاقہ سے آزمائیں گے اور کبھی تمہارے بچے مر جاویں گے۔تو جو لوگ مومن ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا کا ہی مال تھا۔ہم بھی تو اسی کے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہی لوگوں نے جوصبر کرتے ہیں میرے مطلب کو سمجھا ہے ان پر میری بڑی رحمتیں ہیں جن کا کوئی حد و حساب نہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 373) وَلَا أَخْشَى العَدَا فِي سُبُلِ رَبِّي وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ بِسَاحُ لَنَا عِنْدَ الْمَصَائِبِ يَا حَبِيبِيِّ رِضَاءٌ ثُمَّ ذَوْق وَ ارْتِيَاحُ ( ترجمہ:- اور میں اپنے رب کی راہوں میں دشمنوں سے نہیں ڈرتا اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔نہایت وسیع۔اے میرے پیارے! ہمیں مصائب کے وقت ( پہلے تسلیم ورضا پر ذوق اور فرحت حاصل ہوتی ہے) تحفہ بغداد۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 37)