حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 843 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 843

843 چھٹی فصل سالک تھوڑے ہوتے ہیں اِعْمَلُوا الَ دَاوُدَ شُكْرًاء وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ۔(سبا: 14) خوش قسمت وہی انسان ہے جو ایسے مردانِ خدا کے پاس رہ کر ( جن کو اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر بھیجتا ہے ) اس غرض اور مقصد کو حاصل کرے جس کے لئے وہ آتے ہیں۔ایسے لوگ اگر چہ تھوڑے ہوتے ہیں لیکن ہوتے ( ملفوظات جلد اول صفحه (412) ضرور ہیں۔وَ قَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ۔اگر تھوڑے نہ ہوتے تو پھر بے قدری ہو جاتی۔یہی وجہ ہے کہ سونا چاندی لو ہے اور ٹین کی طرح عام نہیں ہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ کہ شاکر اور سمجھدار بندے ہمیشہ کم ہوتے ہیں جو کہ حقیقی طور پر قرآن مجید پر چلنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو اپنی محبت اور تقویٰ عطا کیا ہے۔وہ خواہ قلیل ہوں مگر اصل میں وہی سواد اعظم ہے۔اللہ تعالیٰ کثرت اور تعداد کے رعب میں نہیں آتا قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ۔دیکھو حضرت نوح کے وقت ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 548) کس قدر مخلوق غرق آب ہوئی اور ان کے بالمقابل جو لوگ بچ گئے ان کی تعداد کس قدر تھی۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 19) اولیاء اللہ میں درجات تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ۔(البقرة : 254) یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ اولیاء اللہ کے بھی کئی درجات ہوتے ہیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْض بعض بعض پر فضیلت رکھتے ہیں بلکہ بعض اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں کہ ادنی درجہ کے صلحاء ان کو شناخت نہیں کر سکتے اور ان کے مقام عالی سے منکر رہتے ہیں اور یہ ان کے لیے ابتلا اور ٹھوکر کا باعث ہو جاتا ہے اصل بات یہ ہے کہ ربوبیت کی تجلیات الگ الگ ہوتی ہیں۔جو اخص العباد ہوتے ہیں وہ اعلیٰ درجہ کی تجلی سے مخصوص کیے جاتے ہیں دوسروں کو اس تجلی سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔اگر چہ خدا ایک ہے اور واحد لاشریک ہے مگر پھر بھی مختلف تجلیات کے اعتبار سے ہر ایک کا جدا جدا رب ہے یہ نہیں کہ رب بہت ہیں رب ایک ہی ہے جو سب کا رب ہے اور کثرت کا قابیل کا فر ہے مگر تعلقات کے مختلف مراتب کے لحاظ سے اور صفات الہیہ کے ظہور کی کمی بیشی کے لحاظ سے ہر ایک کا جدا جدا رب کہنا پڑتا ہے جیسا کہ بہت سے آئینے اگر ایک چہرہ کے مقابل پر رکھے جائیں جن میں سے بعض آئینے اس قدر چھوٹے ہوں کہ جیسے آرسی کا شیشہ ہوتا ہے اور بعض اس سے بھی چھوٹے اور بعض اس قدر چھوٹے کہ گویا آرسی کے آئینہ سے پچاسواں حصہ ہیں اور بعض آرسی کے آئینہ سے کسی قدر بڑے ہیں اور بعض