حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 815
815 انبیاء نمونہ قائم کرنے کے لئے آتے ہیں حضرت اقدس رسول اکرم کا کامل نمونہ ہیں بھیجیں عشقم بروئے مصطفے دل پروچوں مرغ سوئے مصطفیٰ ایسا ہی عشق مجھے مصطفے کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفے کی طرف اُڑ کر جاتا ہے۔تا مرا دادند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر جب سے مجھے اس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے۔منکہ مے بینم رخ آں دلبرے جاں فشانم گر دہر دل دیگرے میں اس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں۔اگر کوئی اسے دل دے تو میں اس کے مقابلہ پر جان نثار کر دوں۔ہر زماں مستم کند از ساغری ساقی من هست آں جاں پرورے وہی روح پرور شخص تو میرا ساقی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے۔محو روئے او شد است ایں روئے من ہوئے او آید زبام و کوئے من میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اسی کی خوشبو آ رہی ہے۔بسکه من در عشق او هستم نہاں من ہمانم من ہمانم من ہماں بسکہ میں اس کے عشق میں غائب ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا! میری روح اس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریباں سے وہی سورج نکل آیا ہے۔احمد اندر جان احمد شد پدید اسم من گردید آں اسم وحید میری جان کے اندراحمد ظاہر ہو گیا اس لیے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے۔(سراج منیر۔رخ - جلد 12 صفحہ 97-96 ) ( درشین فارسی متر جم صفحه 228) ان كمالات النبيين ليست ككمالات رب العالمين و ان الله احد صمد وحيد لا شريك له فى ذاته ولا فى صفاته واما الانبياء فليسوا كذالك بل جعل الله لهم وارثين من المتبعين الصادقين۔فامتهم ورثاء هم يجدون ما وجد انبياء هم ان كانوا لهم متبعين و الى هذا اشار في قوله عز وجل قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله فانظر كيف جعل الامة احباء الله بشرط اتباعهم و اقتداء هم بسيد المحبوبين۔