حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 814 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 814

814 رہبر کامل سیدشان آنکه نامش مصطفی است رہیم ہر زمره صدق و صفا است ان لوگوں کا سردار وہ ہے جس کا نام مصطفیٰ ہے تمام اہل صدق وصفا کا وہی رہنما ہے۔می درخشد روئے حق در روئے اُو ہوئے حق آید زبام و کوئے اُو اس کے چہرہ میں خدا کا چہرہ چمکتا نظر آتا ہے اس کے درودیوار سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔ہر کمال رہبری بروے تمام پاک روی و پاک ردیاں را امام رہبری کے تمام کمال اس پر ختم ہیں خود بھی مقدس ہے اور سب مقدسوں کا امام ہے۔اے خدا : اے چارہ آزار ما کن شفاعت ہائے او در کار ما اے خدا۔اے ہماری تکلیفوں کی دوا ہمارے معاملہ میں اس کی شفاعت ہمیں نصیب کر۔ہر کہ مهرش در دل و جانش فتد ناگہاں جانے در ایمانش فتد جس کے جان و دل میں اس کی محبت داخل ہو جاتی ہے تو یکدم اس کے ایمان میں ایک جان پڑ جاتی ہے۔(ضیاء الحق۔ر-خ- 9 صفحہ 254 ) ( در مشین فارسی متر جم صفحه 209) محبت الہی اور نجات اتباع رسول میں ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات ہوسکتی ہے۔وہ جھوٹا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو بات ہم کو سمجھاتی ہے وہ بالکل اس کے برخلاف ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحيكُمُ اللهُ (آل عمران :(32) اے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرد تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔بغیر متابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا۔جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتے ہیں ان کی کبھی خیر نہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 24) قُلْ يَعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر:54) اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے یارسول اللہ غلام بن جائیں گے ان کو وہ نو رایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جوان کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گناہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِی یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام -ر-خ- جلد 5 صفحہ 194-193)