حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 777
777 وَ إِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔(الانعام: 117) قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ وطن ہے اور جو شخص علم ہوتے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 94) معانی قرآن آیات محکمات کے مطابق ہونے ضروری ہیں سوال (8)۔اگر چہ ہمارا ایمان ہے کہ نری خشک تو حید مدار نجات نہیں ہو سکتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے علیحدہ ہوکر کوئی عمل کرنا انسان کو ناجی نہیں بنا سکتا۔لیکن طمانیت قلب کے لئے عرض پرداز ہیں کہ عبد الحکیم خان نے جو آیات لکھی ہیں انکا کیا مطلب ہے۔مثلا ان الذين امنوا والذين هادوا و النصارى والصابئين من امن بالله واليوم الأخر و عمل صالحاً فلهم اجرهم عند ربهم (البقرة :63) اور جیسا کہ یہ آیت بلی من اسلم وجهه الله و هو محسن فله اجره عندربه (البقرة: 113) اور جیسا کہ یہ آیت تعالواالی سواء بيننا وبينكم الا نعبد الا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من كلمة دون الله۔(آل عمران:65) الجواب۔واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اسکے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہو سکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہو سکتی۔اور اللہ پر پورا ایمان بھی ہوسکتا ہے کہ اسکے رسولوں پر ایمان لاوے۔وجہ یہ کہ وہ اسکی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اسکی صفات کے بپائیہ ثبوت نہیں پہنچتا۔لہذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالیٰ ناقص رہ جاتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 173-172) قرآن شریف میں عادت اللہ ہے کہ بعض جگہ تفصیل ہوتی ہے اور بعض جگہ اجمال سے کام لیا جاتا ہے اور پڑھنے والے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ مجمل آیتوں کے ایسے طور سے معنی کرے کہ آیات مفصلہ سے مخالف نہ ہو جائیں۔مثلاً خدا تعالیٰ نے تصریح سے فرما دیا کہ شرک نہیں بخشا جائیگا۔مگر قرآن شریف کی یہ آیت کہ ان الله يـغـفـر الذنوب جميعا(الزمر:54) اس آیت سے مخالف معلوم ہوتی ہے جس میں لکھا ہے کہ شرک نہیں بخشا جائیگا۔پس یہ الحاد ہو گا کہ اس آیت کے وہ معنی کئے جائیں کہ جو آیات محکمات بینات کے مخالف ہیں۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 173 حاشیہ )