حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 763 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 763

763 ساتواں معیار وحی ولایت اور مکاشفات محدثین ہیں۔اور یہ معیار گویا تمام معیاروں پر حاوی ہے کیونکہ صاحب وحی محد ثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہمرنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس پر وہ سب امور بطور انعام واکرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں۔سو اس کا بیان محض انکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سنکر بولتا ہے اور یہ راہ اس امت کے لئے کھلی ہے ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے اور ایک شخص جو دنیا کا کیڑا اور دنیا کے جاہ و جلال اور تنگ و ناموس میں مبتلا ہے وہی وارث علم نبوت ہو کیونکہ خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ بجو مطہرین کے علم نبوت کسی کو نہیں دیا جائیگا بلکہ یہ تو اس پاک علم سے بازی کرتا ہے کہ ہر ایک شخص باوجود اپنی آلودہ حالت کے وارث النبی ہونے کا دعویٰ کرے۔(برکات الدعاء۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 17-21) قرآن کریم کی غلط تفسیر آیت إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ (المومنون: 19) میں 1857ء کی طرف اشارہ ہے جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے نا پید ہو گئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل 1274 ہیں اور 1274 کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو 1857ء ہوتا ہے۔سو در حقیقت ضعف اسلام کا زمانہ ابتدائی یہی 1857ء ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا سو ایسا ہی 1857ء میں مسلمانوں کی حالت ہو گئی تھی پس اس حکیم و علیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ 1857ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے کتاب الہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا ہے اور ان کے دل اور دماغی قومی پر بہت برا اثران سے پڑا ہے اس زمانہ میں بلاشبہ کتاب الہی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے کیونکہ حال میں جن تغییروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثر ڈالتی ہیں بلکہ فطرتی سعادت اور نیک روشنی کے مزاحم ہورہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دراصل اپنے اکثر زوائد کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم نہیں ہے۔قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بے خبر ہیں۔وہ عرفان جو قرآن نے بخشا تھا اس سے لوگ غافل ہو گئے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر تا۔انہیں معنوں سے کہا گیا ہے کہ آخری زمانے میں قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا جیسا کہ فرمایا ہے لو كان الايمان معلقا عند الثريا لناله رجل من فارس یہ حدیث در حقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آیت انا علی ذهاب به لقدرون میں اشارہ بیان کیا گیا ہے۔(ازالہ اوھام -ر خ- جلد3 صفحہ 489-493 حاشیہ )