حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 762
762 قرآن کریم کی صحیح تفسیر کے معیار سب سے اول معیار تغیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں یہ بات نہایت توجہ سے یاد رکھنی چاہیئے کہ قرآن کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لئے دوسرے کا محتاج ہو۔وہ ایک ایسی متناسب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے۔اس کی کوئی صداقت ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا میں شاہد اس کے خود اسی میں موجود نہ ہوں سوا اگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ ان معنوں کی تصدیق کیلئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنوں کی دوسری آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ وہ معنی بالکل باطل ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو اور بچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد بینہ کا اس کا مصدق ہو۔دوسرا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کے معنے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے۔تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے نہیں تو اسمیں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ ان کو نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔چوتھا معیار خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے کیونکہ نفس مطہرہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے لا يمسه الا المطهرون (الواقعة: 80) یعنی قرآن کریم کے حقائق صرف ان پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں۔کیونکہ مظہر القلب انسان پر قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسبت کھل جاتے ہیں اور وہ ان کو شناخت کر لیتا ہے اور سونگھ لیتا ہے اور اس کا دل بول اٹھتا ہے کہ ہاں یہی راہ بچی ہے اور اس کا نور قلب سچائی کی پر کھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے۔پس جب تک انسان صاحب حال نہ ہو اور اس تنگ راہ سے گذرنے والا نہ ہو جس سے انبیاء علیہم السلام گذرے ہیں تب تک مناسب ہے کہ گستاخی اور تکبر کی جہت سے مفسر قرآن نہ بن بیٹھے ورنہ وہ تفسیر بالرائے ہوگی جس سے نبی علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور کہا کہ من فسـر الـقـران بــرائيـة فـاصاب فقد اخطاء یعنی جس نے صرف اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی اور اپنے خیال میں اچھی کی تب بھی اس نے بری تفسیر کی۔پانچواں معیار لغت عرب بھی ہے۔لیکن قرآن کریم نے اپنے وسائل آپ اس قدر قائم کر دیئے ہیں کہ چنداں لغات عرب کی تفتیش کی حاجت نہیں ہاں موجب زیادت بصیرت بے شک ہے بلکہ بعض اوقات قرآن کریم کے اسرار مخفیہ کی طرف لغت کھودنے سے توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور ایک بھید کی بات نکل آتی ہے۔چھٹا معیار روحانی سلسلہ کے سمجھنے کے لئے سلسلہ جسمانی ہے کیونکہ خدا وند تعالیٰ کے دونوں سلسلوں میں بکلی تطابق ہے۔