حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 49
49 چونکہ آنحضرت ﷺ کا حسب آیت وَ اخَرِينَ مِنْهم دوباره تشریف لا نا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔منيب عشقم بروئے (تحفہ گوٹر ویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 263) مصطفی دل پرد چون مرغ سوئے مصطفی ایسا ہی عشق مجھے مصطفی کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفی کی طرف اڑ کر جاتا ہے مرا دادند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر جب سے مجھے اس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اسکے عشق میں بے قرار رہتا ہے بینم رخ آں دلبرے جاں فشانم دہر دل دیگرے میں جو کہ اس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں اور اگر کوئی اسے دل دے تو میں اس کے مقابلہ پر جان نثار منکه گر ہر زماں مستم کند از ساغری ساقی من ہست آں جاں پرورے وہی روح پرور شخص تو میرا ساتی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے مجو روئے او شد است ایں روئے من ہوئے او آید زبام و کوئے من یہ میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اس کی خوشبو آرہی ہے بکه من در عشق او هستم نہاں من ہمانم - من همانم - من ہماں از بسکہ میں اس کے عشق میں غائب ہوں میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا ! میری روح اسکی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریبان سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد شد پدید اسم من گردید اسم آں وحید احمد کی جان کے اندر احمد ظاہر ہو گیا اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے احمد اندر جان ( در مشین فارسی مترجم صفحه 228 ) ( سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 97-96)