حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 50 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 50

50 گیارہویں فصل آنحضرت ﷺ کے شاگر داور وارث کامل ہونے کے اعتبار سے الہامات حضرت اقدس بارھویں پیشگوئی جو براہین احمدیہ کے صفحہ 238 اور 239 میں لکھی ہے علم قرآن ہے اس پیشگوئی کا ما حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ کو علم قرآن دیا گیا ہے ایسا علم جو باطل کو نیست کرے گا۔اور اسی پیشگوئی میں فرمایا کہ دوانسان ہیں جن کو بہت ہی برکت دی گئی۔ایک وہ معلم جس کا نام محمد مصطفی ﷺ ہے اور ایک یہ متعلم یعنی اس کتاب کا لکھنے والا۔اور یہ اس آیت کی طرف بھی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے واخرين منهـم لـمـا يلحقوا بهم (الجمعة) (4) یعنی اس نبی کے اور شاگر د بھی ہیں جو ہنوز ظاہر نہیں ہوئے اور آخری زمانہ میں ان کا ظہور ہوگا۔یہ آیت اسی عاجز کی طرف اشارہ تھا کیونکہ جیسا کہ ابھی الہام میں ذکر ہو چکا ہے یہ عاجز روحانی طور پر آنحضرت ﷺ کے شاگردوں میں سے ہے۔اور یہ پیشگوئی جو قرآنی تعلیم کی طرف اشارہ فرماتی ہے۔اس کی تصدیق کیلئے کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی تھی۔جس کی طرف کسی مخالف نے رخ نہیں کیا۔اور مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میںنے قرآنی تفسیر کیلئے بار بار ان کو بلایا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔سو ہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جل شانہ کا ایک نشان ہے۔میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ میں اس بیان میں سچا ہوں۔(سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 41-40) آں رسولی کش محمد دامن پاکش بدست ما مدام ! وہ رسول جس کا نام اس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے مہر او بست باشیر شد اندر نام ہے بدن جال شد و باجاں بدر خواهد شدن اس کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی بس او اہے کہ ہست و ایمائی بود ! را برو شد اختتام خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت وہی خیر الرسل اور خیر الانام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تعمیل اس پر ہوگئی ما از و نوشیم ہر زو شده سیراب سیرا بے کہ ہست جو بھی پانی ہے وہ ہم اسی سے لے کر پیتے ہیں جو بھی سیراب ہے وہ اسی سے سیراب ہوا ہے آنچه ما را وحی آن نه از خود از ہماں جائے بود ! جو وحی و الہام ہم پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں وہیں سے آتا ہے ما از و یا بیم ہر نور و کمال ! وصل دلدار ازل ہے او محال ! ہم ہر روشنی اور ہر کمال اس سے حاصل کرتے ہیں محبوب ازلی کا وصل بغیر اس کے ناممکن ہے اقتدائے قول او در جان ماست هر چه زو ثابت شود ایمان ماست اسکے ہر ارشاد کی پیروی ہماری فطرت میں ہے جو بھی اس کا فرمان ہے اس پر ہمارا پورا ایمان ہے (سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 95)