حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 44
44 بیت اللہ کے نیچے کا خزانہ هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (القف:10) علوم اور معارف بھی جمالی طرز میں داخل ہیں۔اور قرآن شریف کی آیت ليظهـره عـلـى الدين کلہ میں وعدہ تھا کہ یہ علوم اور معارف مسیح موعود کو اکمل اور اتم طور پر دئیے جائیں گے کیونکہ تمام دینوں پر غالب ہونے کا ذریعہ علوم حقہ اور معارف صادقہ اور دلائل بینہ اور آیات قاہرہ ہیں۔اور غلبہ دین کا انہیں پر موقوف ہے اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جو کہا گیا کہ ان دنوں میں بیت اللہ کے نیچے سے ایک بڑا خزانہ نکلے گا یعنی بیت اللہ کے لئے جو خدا کو غیرت ہے وہ تقاضا کرے گی جو بیت اللہ سے روحانی معارف اور آسمانی خزائن ظاہر ہوں۔یعنی جب مخالفوں کے ظالمانہ حملے بیت اللہ کی عزت کا انہدام چاہیں گے تو اس انہدام کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے نیچے سے ایک بھاری خزانہ نکل آئے گا جو معارف کا خزانہ ہوگا۔اور یہ بیت اللہ پر موقوف نہیں بلکہ قرآن کے ہر ایک ایسے فقرہ کے نیچے ایک خزانہ ہے جس کو کافروں کے ہاتھ مخالفانہ حربہ سے منہدم کر کے جھوٹ کے رنگ میں دکھلانا چاہتے ہیں۔کوئی مسلمان نہ بیت اللہ کو گرائے گا اور نہ قرآنی عمارت کو گرانا چاہے گا۔بلکہ حدیث کے مضمون کے موافق کا فرلوگ اس عمارت کو گرا رہے ہیں اور اس کے نیچے سے خزانے نکل رہے ہیں۔میں کافر کو بھی اس وجہ سے دوست رکھتا ہوں کہ ان کے ذریعہ سے بیت اللہ اور کتاب اللہ کے پوشیدہ خزانے ہمیں مل رہے ہیں۔اور ان معنوں کو قائم رکھ کر ایک اور معنے بھی اس جگہ ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس قدر اس بیت اللہ کو مخالف گرانا چاہیں گے اس میں سے معارف اور آسمانی نشانوں کے خزانے نکلیں گے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر یک ایذاء کے وقت ضرور ایک خزانہ لکھتا ہے۔اور اس بارے میں الہام یہ ہے۔یکے پائے من می بوسید و من میگفتم کہ حجر اسود منم لے اربعین نمبر 4 - ر خ جلد 17 صفحہ 445 444 حاشیہ) ا ترجمہ کسی نے میرا پاؤں چوما۔اور میں نے کہا کہ حجر اسود میں ہی ہوں۔