حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 680
680 خدا تعالیٰ کی ذات وصفات اور ان کی تنبیہی حدود خدا شناسی کے بارے میں وسط کی شناخت یہ ہے کہ خدا کی صفات بیان کرنے میں نہ تو نفی صفات کے پہلو کی طرف جھک جائے اور نہ خدا کو جسمانی چیزوں کا مشابہ قرار دے۔یہی طریق قرآن شریف نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خدا د یکھتا سنتا جانتا بولتا کلام کرتا ہے۔اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کے لئے یہ بھی فرماتا ہے:۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْيٌّ (الشورى:12) فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالُ۔(النحل :75) یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔اس کے لئے مخلوق سے مثالیں مت دو۔سوخدا کی ذات کو تشبیہہ اور تنزیہ کے بین بین رکھنا یہی وسط ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 377-376) ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنزیہی اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرناضروری تھا یعنی ایک تشبیہی صفت اور دوسری تنزیہی صفت اس لئے خدا نے شیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ آنکھ محبت غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جبکہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لَیسَ كَمِثْلِهِ کہ دیا اور بعض جگہ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کہہ دیا۔چشمہ معرفت۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 277) قرآنی مجاز کے چند امثال هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ ايتٌ مُّحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشبهت۔(آل عمران: 8 ) ترجمہ :۔وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر وہ کتاب کہ بعض اس سے آیتیں ہیں محکم کہ وہ اصل ہیں کتاب کی اور کچھ اور متشابہ ہیں۔یہ بات نہایت کار آمد اور یا درکھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث اور مجدد ان کی نسبت جو پہلی کتابوں میں یا رسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں ان کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک وہ علامات جو ظاہری طور پر وقوع میں آتی ہیں اور ایک متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں۔پس جن کے دلوں میں زیغ اور بھی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق بینات اور محکمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہود اور عیسائیوں کو یہ ابتلا پیش آ چکے ہیں۔پس مسلمانوں کے اولوالابصار کو چاہیئے کہ ان سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جو باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کھل جائیں ان سے اپنی ہدایت کے لیے فائدہ اٹھا دیں یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا پس پیشگوئیوں کا وہ دوسرا حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہواوہ ایک امر کی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارات یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہومگر انتظار کرنے والا اس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہوگا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 476-477)