حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 665
665 تیسری فصل فہم قرآن اور حساب جمل وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَاسْكَتْهُ فِي الْأَرْضِ وَ إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ (المومنون: 19) یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سن ہجری میں شروع ہو گا جو آیت وَ إِنَّا عَلَى ذَهَابٍ بِهِ لَقَدِرُونَ۔میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی 1274 - (ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 455) مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت وَ إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ۔جس کے بحساب جمل 1274 عدد ہیں۔اسلامی چاند کی سلح راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔(ازالہ اوہام۔۔۔خ۔جلد 3 صفحہ 464) قرآن شریف کے حروف اور ان کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے۔مثلاً سورۃ والعصر کی طرف دیکھو کہ ظاہری معنوں کی رو سے یہ بتلاتی ہے کہ یہ دنیوی زندگی جس کو انسان اس قدر غفلت سے گزار رہا ہے آخر یہی زندگی ابدی خسران اور وبال کا موجب ہو جاتی ہے اور اس خسر ان سے وہی بچتے ہیں جو خدائے واحد پر نیچے دل سے ایمان لے آتے ہیں کہ وہ موجود ہے اور پھر ایمان کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اچھے عملوں سے اس کو راضی کریں اور پھر اسی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ اس راہ میں ہمارے جیسے اور بھی ہوں جو سچائی کو زمین پر پھیلا دیں اور خدا کے حقوق پر کار بند ہوں اور بنی نوع پر بھی رحم کریں لیکن اس سورت کے ساتھ یہ ایک عجیب معجزہ ہے کہ اس میں آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت کے زمانہ تک دنیا کی تاریخ ابجد کے حساب سے یعنی حساب جمل سے بتلائی گئی ہے۔غرض قرآن شریف میں ہزار ہا معارف و حقائق ہیں اور در حقیقت شمار سے باہر ہیں۔( نزول المسیح - ر - خ جلد 18 صفحہ 422)