حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 662
662 مثلاً جس شخص کو بہت سی زہر قاتل دی گئی ہو وہ کہتا ہے کہ میں تو مر گیا۔اور ظاہر ہے کہ مرگیا ماضی کا صیغہ ہے مضارع کا صیغہ نہیں ہے۔اس سے مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ میں مرجاؤں گا۔اور مثلاً ایک وکیل جس کو ایک قوی اور کھلی کھلی نظیر فیصلہ چیف کورٹ کی اپنے مؤکل کے حق میں مل گئی ہے وہ خوش ہو کر کہتا ہے کہ بس اب ہم نے فتح پالی۔حالانکہ مقدمہ ابھی زیر تجویز ہے کوئی فیصلہ نہیں لکھا گیا۔پس مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ ہم یقینا فتح پالیں گے اسی لئے وہ مضارع کی جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔منہ ( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 159 مع حاشیہ) خدا تعالیٰ نے جابجا قرآن شریف میں عظیم الشان پیشگوئیوں کو ماضی کے لفظ سے بیان کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبَّتْ يَا أَبِي لَهَبٍ وَّ تَبَّ۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 170 ) ہر مقام برنون ثقیلہ استقبال کے معنوں پر مستعمل نہیں ہوتا قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَهَا فَوَلَّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلَّوْا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ لَيَعْلَمُونَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ وَ مَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ۔(البقرة:145) آپ ( مولوی محمد بشیر بھوپالوی) نے جو نون ثقیلہ کا قاعدہ پیش کیا ہے وہ سراسر مخدوش اور باطل ہے۔حضرت ہر ایک جگہ اور ہر ایک مقام میں نون ثقیلہ کے ملانے سے مضارع استقبال نہیں بن سکتا۔قرآن کریم کے لیے قرآن کریم کی نظیریں کافی ہیں اگر چہ یہ سچ ہے کہ بعض جگہ ایسی بھی ہیں کہ حال کے معنے قائم رہے ہیں یا حال اور استقبال بلکہ ماضی بھی اشترا کی طور پر ایک سلسلہ متصل ممتدہ کی طرح مراد لیے گئے ہیں یعنی ایسا سلسلہ جو حال یا ماضی سے شروع ہوا اور استقبال کی انتہا تک بلا انقطاع برابر چلا گیا۔پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَلَنُوَلِيَنَّكَ قِبْلَةً تَرُضُهَا فَوَلَّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال ہی مراد ہے۔کیونکہ بمجرد نزول آیت کے بغیر توقف اور تراخی کے خانہ کعبہ کی طرف مونہہ پھیرنے کا حکم ہو گیا یہاں تک کہ نماز میں ہی مونہہ پھیر دیا گیا۔اگر یہ حال نہیں تو پھر حال کس کو کہتے ہیں۔استقبال تو اس صورت میں ہوتا کہ خبر اور ظہور خبر میں کچھ فاصلہ بھی ہوتا سو آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم تجھ کو اس قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں جس پر تو راضی ہے سو تو مسجد حرام کر طرف منہ کر۔الحق مباحثہ دہلی۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 162-163)