حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 663
663 قَالَ فَاذْهَبُ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَوةِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَنْ تُخْلَفَهُ وَ انْظُرُ إِلَى الهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَتَنْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسُفًا۔(طه: 98) اگر چہ یہ سچ ہے کہ بعض جگہ قرآن کریم کے مضارعات پر جب نونِ ثقیلہ ملا ہے تو وہ استقبال کے معنوں پر مستعمل ہوئے ہیں۔لیکن بعض جگہ ایسی بھی ہیں کہ حال کے معنے قائم رہے ہیں یا حال اور استقبال بلکہ ماضی بھی اشترا کی طور پر ایک سلسلہ متصلہ ممتدہ کی طرح مراد لئے گئے ہیں یعنی ایسا سلسلہ جو حال یا ماضی سے شروع ہوا اور استقبال کی انتہا تک بلا انقطاع برابر چلا گیا۔پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وانظرُ إِلى الهِكَ الَّذِي ظَلَّتْ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَنُحَرقَنَّهُ الخ یعنی اپنے معبود کی طرف دیکھ جس پر تو مختلف تھا کہ اب ہم اس کو جلاتے ہیں۔اس جگہ بھی استقبال مراد نہیں کیونکہ استقبال اور حال میں کسی قدر بعد زمان کا ہونا شرط ہے۔مثلاً اگر کوئی کسی کو یہ کہے کہ میں تجھے دس روپیہ دیتا ہوں سولے مجھ سے دس روپیہ۔تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو گا کہ اس نے استقبال کا وعدہ کیا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ یہ سب کارروائی حال میں ہی ہوئی۔الحق مباحثہ دہلی۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 162 163 ) وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَنُدْخِلَنَّهُمُ فِي الصَّلِحِينَ۔(العنكبوت: 10) یعنی ہماری سنت مستمرہ قدیمہ ہے کہ جو لوگ ایمان لاویں اور عمل صالح کریں ہم ان کو صالحین میں داخل کر لیا کرتے ہیں۔اب حضرت مولوی صاحب دیکھئے کہ لندخِلَنَّهُمُ میں نون ثقیلہ ہے لیکن اگر اس جگہ آپ کی طرز پر معنی کئے جائیں تو اس قدر فساد لازم آتا ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں کیونکہ اس صورت میں مانا پڑتا ہے کہ یہ قاعدہ آئندہ کے لئے باندھا گیا ہے اور اب تک کوئی نیک اعمال بجالا کر صلحاء میں داخل نہیں کیا گیا۔گویا آئندہ کے لئے گنہ گارلوگوں کی تو بہ منظور ہے اور پہلے اس سے دروازہ بند ہورہا ہے۔سو آپ سوچیں کہ ایسے معنی کرنا کس قدر مفاسد کو مستلزم ہے۔الحق مباحثہ دہلی۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 164) وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهَ مَنْ يَّنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج : 41) یعنی وہ جو خدا تعالیٰ کی مدد کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کی مددکرتا ہے۔اب حضرت دیکھئے آیت کے لفظ لَيَنصُرَنَّ کے آخر میں نون ثقیلہ ہے لیکن اگر اس آیت کے یہ معنے کریں کہ آئندہ کسی زمانہ میں اگر کوئی ہماری مدد کرے گا تو ہم اس کی مدد کریں گے تو یہ معنے بالکل فاسد اور خلاف سنت مستمرہ الہیہ ٹھہریں گے کیونکہ اللہ جل شانہ کے قدیم سے اور اسی زمانہ سے کہ جب بنی آدم پیدا ہوئے یہی سنت مستمرہ ہے کہ وہ مددکرنے والوں کی مدد کرتا ہے۔یوں کیونکر کہا جائے کہ پہلے تو نہیں مگر آئندہ کسی نامعلوم زمانہ میں اس قاعدہ کا پابند ہو جائے گا اور اب تک تو صرف وعدہ ہی ہے عمل درآمد نہیں سُبْحَانَهُ هذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ - الحق مباحثہ دہلی۔ر- خ - جلد 4 صفحہ 164)