حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 659 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 659

659 اللہ جل شانہ نے ہمیں یہ فرمایا ہے فان تنارغتم في شيء فردوه الى الله والرسول(النساء: 60) بھنے اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو اس امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رڈ کرو اور صرف اللہ اور رسول کو حکم بناؤ نہ کسی اور کو اب یہ کیونکر ہو سکے کہ ناقص العلم صرفیوں اور نحویوں کو اللہ اور رسول کو چھوڑ کر اپنا حکم بنایا جائے کیا اسپر کوئی دلیل ہے۔تعجب کہ متبع سنت کہلا کر کسی اور کیطرف بجز سر چشمہ طیبہ مطہرہ اللہ رسول کے رجوع کریں۔آپ کو یادر ہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف و نح غلطی سے پاک ہیں یا ہمہ وجوہ ستم مکمل ہیں۔اگر آپ کا یہ مذہب ہے تو اس مذہب کی تائید میں تو کوئی آیت قرآن کریم پیش کیجئے یا کوئی حدیث صحیح دکھلائیے ورنہ آپ کی یہ بحث بے مصرف فضول خیال ہے الحق مباحثہ دہلی۔ر- خ - جلد 4 صفحہ 184) حجت شرعی نہیں۔قالوا ان هذان لسحران يريدان ان يخرجكم من ارضكم بسحرهما ويذهبا بطريقتكم المثلى۔(طه:64) یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض جگہ خدا تعالیٰ انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوتا یاکسی اور زمانہ کے متروکہ محاورہ کو اختیار کرتا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف ونحو کے ماتحت نہیں چلتا اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں مثلاً یہ آیت ان هذنِ لَسَاحِرَانِ انسانی نحو کی رو سے إِنَّ هَذَینِ چاہیئے۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 317 حاشیہ) اس کلام میں مجھے فارسی الاصل ٹھہرایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی براہین احمدیہ میں فرماتا ہے خُذُوا التَّوْحِيْدَ التَّوْحِيْدَ يَا ابْنَاءَ الْفَارِسِ (ترجمہ) تو حید کو پکڑ وتو حید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو۔۔۔۔۔فارس کے لفظ پر خدا تعالیٰ نے الف لام لگا دیا ہے جو موجودہ نحو کے قاعدہ کی رو سے صرف فارس چاہیئے تھا خدا کا کلام انسانی نحو سے ہر ایک جگہ موافق نہیں ہوتا ایسے الفاظ اور فقرات اور ضمائر جو انسانی نحو سے مخالف ہیں قرآن شریف میں بھی پائے جاتے ہیں۔(چشمہ معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ (331) وَ مَا كَانَ لِبَشَرِاَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ۔۔۔۔الخ (الشورى:52) یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خدا تعالیٰ کی وحی انسانوں کی بنائی ہوئی صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنی توجہ سے تطبیق ہو سکتی ہے اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں۔زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغیر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں آجکل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکہ اور مدینہ اور دیار شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے گویا وہ محاورہ صرف ونحو کے تمام قواعد کی بیانی کر رہا ہے اور مکن ہے کہ اس قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے۔( نزول ایج - ر - خ- جلد 18 صفحہ 436)