حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 624
624 جب تک انسان کامل طور پر تو حید پر کار بند نہیں ہوتا۔اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی نماز کی لذت اور سرور سے حاصل نہیں ہو سکتا۔مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے نا پاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق۔حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 108) نماز کا مغز اور اصل دعا ہے نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الہیہ کا مورد بنادیتی ہے۔کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے۔اب ذرا غور کر ونماز کی ابتداء اذان سے شروع ہوتی ہے۔اذان اللہ اکبر سے شروع ہوتی ہے۔یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لا اله الا اللہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے۔یہ فخر اسلامی عبادت ہی کو ہے کہ اس میں اول اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 37) ذکر سے مراد نماز ہے الا بذكرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 29) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا ہے أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 29) اطمینان سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔نماز سے دین اور د نیا سنور جاتی ہے ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 311) نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے مگر جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگار ہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا اس لئے چاہیئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 403)