حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 617 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 617

617 پہلی فصل توحید باری تعالٰی اور نبی اکرم ﷺ پر ایمان نبی علی ہمارا مذہب زعشاق فرقان و پیغمبریم بدین آمدیم و بدین بگذریم (ترجمہ : ہم قرآن کریم اور رسول اکرم حیلہ کے عاشقوں میں ہیں۔اسی پر ہم آئے ہیں اور اسی حالت میں گزر جائیں گے ) ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں۔جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باریتعالی اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سید نا مولینا محمد مصطفی صل اللہ علیہ وسلم خاتم النبین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔(ازالہ اوہام۔رخ- جلد 3 صفحہ 170-169) فَاعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرُ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ وَ اللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوِيكُمُ۔(محمد: 20) جیسا تم دیکھتے ہو کہ نور کے آنے سے ظلمت قائم نہیں رہ سکتی ایسا ہی جب لا اله الا اللہ کا نورانی پر توہ دل پر پڑتا ہے تو نفسانی ظلمت کے جذبات کا لمعدوم ہو جاتے ہیں۔گناہ کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شور و غوغا ہو جس کی متابعت کی حالت میں ایک شخص کا نام گناہ گار رکھا جاتا ہے اور لا اله الا اللہ کے معنے جو لغت عرب کے موار داستعمال سے معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ لَا مَطْلُوبَ لِی وَلَا مَحْبُوبَ لِي وَلَا مَعْبُودَ لِي وَ لَا مُطَاعَ لِي إِلَّا الله یعنی بجز اللہ کے اور کوئی میرا مطلوب نہیں اور محبوب نہیں اور معبود نہیں اور مطاع نہیں اب ظاہر ہے کہ یہ معنی گناہ کی حقیقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہیں۔پس جو شخص ان معنی کو خلوص دل کے ساتھ اپنی جان میں جگہ دے گا تو بالضرورت مفہوم مخالف اس کے دل سے نکل جائے گا کیونکہ ضدین ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔پس جب نفسانی جذبات نکل گئے تو یہی وہ حالت ہے جس کو کچی پاکیزگی اور حقیقی راست بازی کہتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جو دوسرے جز کلمہ کا مفہوم ہے۔اس کی ضرورت یہ ہے کہ تا خدا کے کلام پر بھی ایمان حاصل ہو جائے۔کیونکہ جو شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں خدا کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے فرمانوں پر ایمان بھی لاوے اور فرمان پر ایمان لا نا بجز اس کے ممکن نہیں کہ اس پر ایمان لاوے جس کے ذریعہ سے دنیا میں فرمان آیا۔پس یہ حقیقت کلمہ کی ہے۔( نور القرآن۔۔۔خ۔جلد 9 صفحہ 420-419)