حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 618
618 إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتابُوا وَ جَهَدُوا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ اللهِ أُولئِكَ هُمُ الصَّدِقُونَ۔(الحجرات: 16) سوا اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے پھر بعد اس کے ایمان پر قائم رہے اور شکوک وشبہات میں نہیں پڑے۔دیکھو ان آیات میں خدا تعالیٰ نے حصر کر دیا کہ خدا کے نزدیک مومن وہی لوگ ہیں کہ جو صرف خدا پر ایمان نہیں لاتے بلکہ خدا اور رسول دونوں پر ایمان لاتے ہیں۔پھر بغیر ایمان بالرسول کے نجات کیونکر ہو سکتی ہے اور بغیر رسول پر ایمان لانے کے صرف تو حید کس کام آ سکتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 132) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔(البقرة : 256) یعنی وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی نہیں وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔اس آیت کے لفظی معنے یہ ہیں کہ زندہ وہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے۔پس جبکہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوا زندہ نظر آتا ہے وہ اس کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جو زمین یا آسمان میں قائم ہے وہ اسی کی ذات سے قائم ہے۔(چشمہ معرفت۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 120) کلمہ طیبہ کی اصل روح میں نے عرض کیا کہ حضور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ بار بار پڑھنے اور اس کے ذکر کا بھی ثواب ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔دل میں خدا تعالیٰ سے تعلق ہو تو پھر زیادہ تشریح طلب کرنے پر فرمایا:۔اصل بات یہ ہے کہ میرا مذ ہب یہ نہیں کہ زبانی جمع خرچ کیا جاوے۔ان طریقوں میں بہت سی غلطیاں ہیں ان تمام اذکار کی اصل روح اس پر عمل کرنا ہے۔ایک دفعہ صحابہ کرام اللہ بآواز بلند کہہ رہے تھے تو حضرت نے فرمایا تمہارا خدا بہرہ نہیں تو مطلب یہ ہے کہ کلمہ سے مراد ہے تو حید کو قائم رکھنا اور اس کے رسول کی اطاعت۔اب ثواب اس میں ہے کہ ہر بات میں اللہ کو مقدم رکھے اور اللہ پر پورا پورا ایمان لائے۔اس کی صفات کے خلاف کوئی کلام کوئی کام نہ کرے حتی کہ خیال بھی نہ لائے۔وہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةً وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ (النور:38) اس سے بھی یہی مراد ہے کہ دنیا کے کاموں میں بھی میرے احکام کو نہیں بھلاتے۔دیکھو اس وقت ہم ان طریقوں کی طرح ذکر نہیں کر رہے مگر حقیقت میں اسی کی عظمت وجلال کا ذکر ہے۔پس یہی ذکر ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 141)