حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 579 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 579

579 مگر یہ بات یا درکھنے کے لائق ہے کہ دائمی طور پر افضل صفات الہیہ بھی نہیں ہوتا اور جز خدا کے کسی چیز کے لیے قدامت شخصی تو نہیں مگر قدامت نوعی ضروری ہے اور خدا کی کسی صفت کے لیے تعطل دائمی تو نہیں مگر تعطل میعادی کا ہونا ضروری ہے اور چونکہ صفت ایجاد اور صفت افتاء کی صفت کا ایک کامل دور آ جاتا ہے تو صفت ایجاد ایک میعاد تک معطل رہتی ہے غرض ابتداء میں خدا کی صفت وحدت کا دور تھا اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس دور نے کتنی دفعہ ظہور کیا بلکہ یہ دور قدیم اور غیر متناہی ہے بہر حال صفت وحدت کے دور کو دوسری صفات پر تقدم زمانی ہے۔پس اسی بناء پر کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں خدا کیلا تھا اور اس کے ساتھ کوئی نہ تھا۔خداشناسی میں وسط کی تعلیم (چشمہ معرفت - رخ- جلد 23 صفحہ 275-274) فَاطِرَ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ جَعَلَ لَكُمُ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْأَنْعَامِ اَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ۔(الشورى :12) خداشناسی کے بارے میں وسط کی شناخت یہ ہے کہ خدا کی صفات بیان کرنے میں نہ تو نفی صفات کے پہلو کی طرف جھک جائے اور نہ خدا کو جسمانی چیزوں کا مشابہ قرار دے۔یہی طریق قرآن شریف نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خداد یکھتا، سنتا جانتا بولتا، کلام کرتا ہے اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کے لئے یہ بھی فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيء۔۔۔یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں اس کے لئے مخلوق سے مثالیں مت دو سو خدا کی ذات کو تشبیہ اور تنزیہ کے بین بین رکھنا یہی وسط ہے۔( اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 377-376) خداتعالی صفات کا ملہ کے منافی کام نہیں کرتا يَسْتَلُهُ مَنْ فِي السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانٍ (الرحمن :30) ہمارا خداوند قادر مطلق تمام ذرات عالم اور ارواح اور جمیع مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے۔اس کی قدرت کی نسبت اگر کوئی سوال کیا جائے تو بجز ان خاص باتوں کے جو اس کی صفات کا ملہ اور مواعید صادقہ کے منافی ہوں۔باقی سب امور پر وہ قادر ہے اور یہ بات کہ گو وہ قادر ہومگر کرنا نہیں چاہتا یہ عجیب بیہودہ الزام ہے جب کہ اس صفات میں كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَان بھی داخل ہے اور ایسے تصرفات کہ پانی سے برودت دور کرے یا آگ سے خاصیت احراق زائل کر دیوے اس کی صفات کا ملہ اور مواعید صادقہ کی منافی نہیں ہیں۔( برکات الدعا- ر- خ - جلد 6 صفحہ 29-28 ) بعض لوگوں کا اعتقاد ہے۔کہ چونکہ خدا تعالٰی عَلى كُلّ شَيْءٍ قَدِير (الاحقاف: 34) ہے اس واسطے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جھوٹ بولے۔ایسا اعتقاد بے ادبی میں داخل ہے۔ہر ایک امر جو خدا تعالیٰ کے وعدہ اس کی ذات جلال اور صفات کے برخلاف ہے وہ اس کی طرف منسوب کرنا بڑا گناہ ہے۔جو امر اس کی صفات کے برخلاف ہے ان کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 363)