حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 574
574 حقیقی توحید فَاعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ اسْتَغْفِرُ لِذَنْبكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوِيكُمْ۔(محمد:20) قرآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد اور مدعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہ لاشریک ہے ایسا ہی محبت کی رو سے بھی اس کو وحدہ لاشریک یقین کیا جاوے اور کل انبیا علیہم السلامکی تعلیم کا اصل منشاء ہمیشہ ہی رہا ہے۔چنانچہ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ جیسے ایک طرف تو حید کی تعلیم دیتا ہے ساتھ ہی تو حید کی تکمیل محبت کی ہدایت بھی دیتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے یہ ایک ایسا پیارا اور پر معنی جملہ ہے کہ اس کی مانند ساری تو رات اور انجیل میں نہیں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب نے کامل تعلیم دی ہے۔الہ کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جاوے۔گویا اسلام کی یہ اصل محبت کے مفہوم کو پورے اور کامل طور پر ادا کرتی ہے۔یادرکھو کہ جو تو حید بڑوں محبت کے ہو وہ ناقص اور ادھوری ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 137) توحید کے مراتب ہوتے ہیں بغیر ان کے توحید کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔نرا لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ ہی کہہ دینا کافی نہیں یہ تو شیطان بھی کہ دیتا ہے۔جب تک عملی طور پر لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کی حقیقت انسان کے وجود میں متحقق نہ ہو کچھ نہیں۔یہودیوں میں یہ بات کہاں ہے آپ ہی بتا دیں۔توحید کا ابتدائی مرحلہ اور مقام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف کوئی امر انسان سے سرزد نہ ہو اور کوئی فعل اس کا اللہ تعالیٰ کی محبت کے منافی نہ ہو۔گویا اللہ تعالیٰ ہی کی محبت اور اطاعت میں محو اور فنا ہو جاوےاس واسطے اس کے معنے یہ ہیں لَا مَعُبُودَ لِی وَلَا مَحْبُوبَ لِي وَلَا مُطَاعَ لِى یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی میرا معبود ہے اور نہ کوئی محبوب ہے اور نہ کوئی واجب الاطاعت ہے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 448) وَلَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا۔وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِةٍ الِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَّهُمْ يُخْلَقُونَ۔وَلَا يَمْلِكُونَ لا نُفُسِهِمْ ضَرَّ اوَّلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيوةً وَّلَا نُشُورًا۔(الفرقان:4,3) یعنی خداوہ خدا ہے جو تمام زمین و آسمان کا اکیلا مالک ہے کوئی اس کا حصہ دار نہیں اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک اور اسی نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر ایک حد تک اس کے جسم اور اس کی طاقتوں اور اس کی عمر کو محدود کر دیا اور مشرکوں نے بجز اس خدائے حقیقی کے اور اور ایسے ایسے خدا مقرر کر رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ اور مخلوق ہیں اپنے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہیں اور نہ موت اور زندگی اور جی اُٹھنے کے مالک ہیں اب دیکھو خدائے تعالیٰ صاف صاف طور پر فرما رہا ہے کہ بجز میرے کوئی اور خالق نہیں بلکہ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ تمام جہان مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتا اور صاف فرما تا ہے کہ کوئی شخص موت اور حیات اور ضر ر اور نفع کا مالک نہیں ہو سکتا۔اس جگہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مخلوق کو موت اور حیات کا مالک بنادینا اور اپنی صفات میں شریک کر دینا اس کی عادت میں داخل ہوتا تو وہ بطور استثناء ایسے لوگوں کو ضرور باہر رکھ لیتا اور ایسی اعلیٰ تو حید کی ہمیں ہرگز تعلیم نہ دیتا۔(ازالہ اوہام -رخ- جلد 3 صفحہ 260-259 حاشیہ)