حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 524 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 524

524 انبیاء بوده اند ہے من بعرفاں نہ کمترم ز کسے اگر چہ انبیاء بہت ہوئے ہیں۔مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں۔مصطف وارث شدم به یقین شده رنگین برنگ یار میں یقینا مصطفے کا وارث ہوں اور اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں۔سیں نزول المسیح۔رخ - جلد 18 صفحہ 477 ( در مشین فاری متر جم صفحہ 335) الہام اور دستور خداوندی وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ إِنَّهُ لَقَولٌ فَصْلٌ وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ۔(الطارق 15-12) در اصل زمین کے پانی کا وجود بھی آسمان کی بارش پر موقوف ہے اسی وجہ سے جب کبھی آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین کے کنوؤں کا پانی چڑھ آتا ہے۔کیوں چڑھ آتا ہے؟ اس کا یہی سبب ہے کہ آسمانی پانی زمین کے پانی کو اوپر کی طرف کھینچتا ہے۔یہی رشتہ وحی اللہ اور عقل میں ہے۔وحی اللہ یعنی الہام الہی آسمانی پانی ہے اور عقل زمینی پانی ہے اور یہ پانی ہمیشہ آسمانی پانی سے جو الہام ہے تربیت پاتا ہے اور اگر آسمانی پانی یعنی وحی ہونا بند ہو جائے تو یہ زمینی پانی بھی رفتہ رفتہ خشک ہو جاتا ہے۔اور ہر ایک وقت میں جب دنیا میں خدا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور غفلت کی وجہ سے حقیقی پاک باطنی میں فتور آتا ہے تو خدا کسی کو اپنے بندوں میں سے الہام دے کر دلوں کو صاف کرنے کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔سواس زمانہ میں اس کام کے لئے جس شخص کو اس نے اپنے ہاتھ سے صاف کر کے کھڑا کیا ہے وہ یہی عاجز ہے۔خدا اسلامی اصول کی فلاسفی - ر - خ- جلد 10 صفحہ 429) ( کشف الغطاء۔ر۔خ۔جلد 14 صفحہ 191) یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں سے خدا کی خبر لاتے ہیں اگر اُس طرف سے نہ آوے خبر تو ہو جائے راه زیر و زبر طلب گار ہو جائیں اُس کے تباہ وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ مگر کوئی معشوق ایسا نہیں که عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے ( در مشین اردو صفحہ 21) (ست بچن۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 166)