حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 512 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 512

512 مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ (الزاريات:57) الہام کا مادہ ہر انسان میں ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا۔(الشمس: 9) یعنی بر یک انسان کو ایک قسم کا خدا نے الہام عطا کر رکھا ہے جس کو نور قلب کہتے ہیں اور وہ یہ کہ نیک اور بد کام میں فرق کر لینا۔جیسے کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں اس وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام بُرا کیا اچھا نہیں کیا لیکن وہ ایسے القاء کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیونکہ اس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے اور عقل بھی ضعیف اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 186 حاشیہ) وَ مَا كَانَ لِبَشَرٌ أَنْ يُكَلَّمَهُ الله۔۔۔۔۔الاية۔(الشورى: 52) اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے کیونکہ اگر یہ مادہ نہ رکھا ہوتا تو پھر حجت پوری نہ ہو سکتی اس لئے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی والہام کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے اگر کسی کو کوئی خواب بچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔(البقرة: 287) اس لئے یہ مادہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔میرا یہ مذہب ہے کہ ایک بدکار اور فاسق فاجر کو بھی بعض وقت کچی رویا آ جاتی ہے اور کبھی کبھی الہام بھی ہو جاتا ہے گو وہ شخص اس کیفیت سے کوئی فائدہ اٹھا دے یا نہ اٹھاوے جبکہ کافر اور مومن دونوں کو سچی رؤیا آجاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے۔عظیم الشان فرق تو یہ ہے کہ کافر کی رؤیا بہت کم بچی نکلتی ہے اور مومن کی کثرت سے بچی نکلتی ہے گویا پہلا فرق کثرت اور قلت کا ہے دوسرے مومن کے لئے بشارت کا حصہ زیادہ ہے جو کا فر کی رویا میں نہیں ہوتا۔سوم مومن کی رؤیا مصفا اور روشن ہوتی ہے بحالیکہ کا فر کی رؤیا مصفا نہیں ہوتی چہارم مومن کی رؤیا اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 281-280) الہام کا حقیقی منصب وَنَا دَيْنَهُ أَنْ يُإِبْرَاهِيمُ۔قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءُ يَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ۔(الصفت 106-105) صوفیوں نے لکھا ہے کہ ادائل سلوک میں جو دیا یا وحی ہو اس پر توجہ نہیں کرنی چاہیئے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے۔انسان کی اپنی خوبی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تواللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھاوے یا کوئی الہام کرے اس نے کیا کیا؟ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت وحی ہوا کرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا گیا کہ اس کو یہ الہام ہوا یہ وحی ہوئی بلکہ ذکر کیا گیا ہے تو اس بات کا اِبْراهِيمَ الَّذِي وفی (النجم : 38) وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل نمونہ دکھایا یا یہ کہ بِإِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءُ يَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ وحی الہی کے انوار قبول کرنے کے لئے فطرت قابلہ شرط ہے جس میں وہ انوار منعکس ہوسکیں جو خدائے تعالی کسی وقت اپنے خاص ارادہ سے نازل کرے۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ۔جلد 5 صفحہ 237 حاشیہ ) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 638-637)