حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 16 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 16

16 فرمان قرآن کریم تمام الہامات پر بطور میمن اور محک کے ہے یا د رکھنا چاہئے کہ ہر ایک الہام کے لئے وہ سنت اللہ بطور امام اور یمن اور پیشرو کے ہے جو قرآن کریم میں وارد ہو چکی ہے۔اور ممکن نہیں کہ کوئی الہام اس سنت کو توڑ کر ظہور میں آوے کیونکہ اس سے پاک نوشتوں کا باطل تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه 156 طباعت دسمبر 1920 ء فاروق پر لیس قادیان) ہونا لازم آتا ہے۔ہر ایک ایسے شخص کو جو قرآن کریم پر ایمان لاتا ہے خواہ وہ گذر چکا ہے یا موجود ہے اسی اعتقاد کا پابند جانتا ہوں کہ وہ احادیث کے پر کھنے کے لئے قرآن کریم کو میزان اور معیار اور محک سمجھتا ہوگا۔کیونکہ جس حالت میں قرآن کریم خود یہ منصب اپنے لئے تجویز فرماتا ہے اور کہتا ہے فَاتِي حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُوْنَ۔(الاعراف: 186) اور فرماتا ہے قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدى (البقره: 121) اور فرماتا ہے۔وَاعْتَصِمُوْ ابِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيْعًا (ال عمران : 104) اور فرماتا ہے هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنتٍ مِّنَ الْهُدى (البقرة: 186) اور فرماتا ہے۔أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانِ۔(الشوری: 118) اور فرماتا ہے۔إِنَّهُ لَقَوْل فَضْلٌ - ( الطارق :14) لَا رَيْبَ فِيهِ ـ (البقرة: 3) تو پھر اس کے بعد کون ایسا مومن ہے جو قرآن شریف کو حدیثوں کے لئے حکم مقرر نہ کرے؟ اور جبکہ وہ خود فرماتا ہے کہ یہ کلام حکم ہے قول فصل ہے اور حق اور باطل کی شناخت کے لئے فرقان ہے اور میزان ہے۔تو کیا یہ ایمان داری ہوگی کہ ہم خدا تعالی کے ایسے فرمودہ پر ایمان نہ لائیں؟ اور اگر ہم ایمان لاتے ہیں تو ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہیے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر اسی مشکواۃ وحی سے نور حاصل کرنے والے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے مخالف ہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ رخ جلد 4 صفحہ 22) ہاں اگر کوئی ایسی حدیث جو قرآن کریم سے مخالف نہ ہو تو پھر میں اسکی صحت کاملہ کی نسبت قائل ہو جاؤں گا۔اور آپ کا یہ فرمانا کہ قرآن کریم کو کیوں محک صحت احادیث ٹھہراتے ہو۔سواس کا جواب میں بار بار یہی دونگا کہ قرآن کریم میمن اور امام اور میزان اور قول فصل اور ہادی ہے۔اگر اس کو محک نہ ٹھہراؤں تو اور کس کو ٹھہراؤں؟ کیا ہمیں قرآن کریم کے اس مرتبہ پر ایمان نہیں لانا چاہیئے۔جو مرتبہ وہ خود اپنے لئے قرار دیتا ہے؟ دیکھنا چاہیے کہ وہ صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا۔( ال عمران: 104) کیا اس حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کے لئے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ اور پھر فرماتا ہے۔وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ أَعْمَى - (طه : 125) یعنی جو شخص میرے فرمودہ سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کی طرف مائل ہو تو اس کے لئے تنگ معشیت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے۔اور قیامت کو اندھا اٹھایا جائے گا۔اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے خلاف پائیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اس کو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پروانہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہو گئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں۔اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔فَاسْتَمْسِک بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ (الزخرف:44) وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ۔(الزخرف:45) یعنی قرآن کریم کو ھر یک امر میں دستاویز پکڑو۔تم سب کا اسی میں شرف ہے کہ تم قرآن کو دستا ویز پکڑو۔اور اسی کو مقدم رکھو، اب