حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 408 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 408

408 حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے اِنَّكَ لَفِی ضَللِكَ الْقَدِيمِ۔(يوسف: 96 ) سويه دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غض یہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے پھل دیتے ہیں اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔آسماں بار امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانه زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام - رخ جلد 5 صفحہ 173-170 ) محاورہ ، قرآن کے اعتبار سے ان آیات میں کسی کم تجربہ آدمی کو یہ خیال نہ گذرے کہ ان دونوں مقامات کے بعد میں جہنم کا ذکر ہے اور بظاہر سیاق کلام چاہتا ہے کہ یہ قصہ آخرت سے متعلق ہو مگر یادر ہے کہ عام محاورہ قرآن کریم کا ہے اور صد ہا نظیریں اسکی اس پاک کلام میں موجود ہیں کہ ایک دنیا کے قصہ کے ساتھ آخرت کا قصہ پیوند کیا جاتا ہے۔اور ہر ایک حصہ کلام کا اپنے قرائن سے دوسرے حصہ سے تمیز رکھتا ہے اس طرز سے سارا قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔مثلا قرآن کریم میں شق القمر کے معجزہ کو ہی دیکھو کہ وہ ایک نشان تھا لیکن ساتھ اس کے قیامت کا قصہ چھیڑ دیا گیا۔جس کی وجہ سے بعض نادان قرینوں کو نظر انداز کر کے کہتے ہیں کہ شق القمر وقوع میں نہیں آیا بلکہ قیامت کو ہوگا۔منہ اسالیب ادب کے اعتبار سے (شہادت القران۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 311 حاشیہ ) پھر تیسر الطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ باوجود التزام فصاحت و بلاغت یہ کمال دکھلایا ہے کہ محامد الہیہ کے ذکر کرنے کے بعد جو فقرات دعا وغیرہ کے بارہ میں لکھے ہیں ان کو ایسے عمدہ طور پر بطور لف و نشر مرتب کے بیان کیا ہے۔جس کا صفائی سے بیان کرنا باوجود رعایت تمام مدارج فصاحت و بلاغت کے بہت مشکل ہوتا ہے اور جولوگ سخن میں صاحب مذاق ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے لف و نشر کیسا نازک اور دقیق کام ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ خداے تعالیٰ نے اول محامد الہیہ میں فیوض اربعہ کا ذکر فرمایا کہ وہ رب العالمین ہے۔رحمان ہے رحیم ہے۔مالک یوم الدین ہے اور پھر بعد اس کے فقرات تعبد اور استعانت اور دعا اور طلب جزا کو انہیں کے ذیل میں اس لطافت سے لکھا ہے کہ جس فقرہ کو کس قسم فیض سے نہایت مناسبت تھی اس کے نیچے وہ فقرہ درج کیا چنانچہ رب العالمین کے مقابلہ پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ لکھا کیونکہ ربوبیت سے استحقاق عبادت شروع ہو جاتا ہے پس اسی کے نیچے اور اسی کے محاذات میں إِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لکھنا نہایت موزوں اور مناسب ہے اور حمان کے مقابلہ پر ايَّاكَ نَسْتَعِينُ لکھا کیونکہ بندہ کے لیے اعانت الہی جو تو فیق عبادت اور ہر یک اس کے مطلوب میں ہوتی ہے جس پر اس کی دنیا اور آخرت کی صلاحیت