حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 409 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 409

409 موقوف ہے یہ اس کے کسی عمل کا پاداش نہیں بلکہ محض صفت رحمانیت کا اثر ہے پس استعانت کو صفت رحمانیت سے بشدت مناسبت ہے اور رحیم کے مقابلہ پر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ لکھا کیونکہ دعا ایک مجاہدہ اور کوشش ہے اور کوششوں پر جوشمرہ مترتب ہوتا ہے وہ صفت رحیمیت کا اثر ہے۔اور مالک یوم الدین کے مقابلہ پر صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرَ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ لکھا کیونکہ امرمجازات مالک یوم الدین کے متعلق ہے سوایسا فقرہ جس میں طلب انعام اور عذاب سے بچنے کی درخواست ہے اسی کے نیچے رکھنا موزوں ہے۔منطقی دستور کے اعتبار سے ( براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 580-577 حاشیہ نمبر 11) منطقی لوگ تعریف کرتے وقت فصل جنس وغیرہ تقسیم کیا کرتے ہیں جیسے کہتے ہیں الْإِنْسَانُ حَيَوَانُ ناطق۔سورۃ فاتحہ میں یہ رنگ بھی موجود ہے الْحَمْدُ لِلهِ کہا۔پھر اس کے آگے رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اس کی فصل واقع ہوئی الرَّحْمَانِ الرَّحِيْمِ۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ اس کی حد ہوگئی۔اس سے بڑھ کر اور کوئی تعریف نہیں ہے۔الحکم 10 فروری 1901 ، صفحہ 12 کالم نمبر 3 زیر عنوان نکات عشرہ فرمودہ 2 فروری 1901ء بوقت سیر ) ربط کلام کے اعتبار سے إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ و یک وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا۔وَيَنْصُرَكَ اللهُ نَصْرًا عَزِيزًا۔(الفتح: 2 تا 4 ) یہ آیت فتح مکہ کے وقت اُتری عیسائی اس آیت کا اس طرح ترجمہ کرتے ہیں ” ہم نے تجھے ایک صریح فتح دی تا کہ ہم تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کریں۔۔۔یہ معنے بالصراحت غلط ہیں کیونکہ اس آیت کا ربط ہی بگڑ جاتا ہے۔ایک فتح کو گناہ کی معافی سے کیا تعلق ہے گناہوں کی معافی فتح کا کوئی نتیجہ نہیں ہوسکتا۔یہاں لفظ ذنب سے وہ عیب مراد ہیں۔یہ کفار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا کرتے تھے کہ یہ شخص مفتری اور جھوٹا ہے۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح دی جو کہ آپ کی صداقت کی علامت تھی اور اس طرح خدا وند تعالیٰ نے آپ کے سلسلہ کو پوری کامیابی دی اور آپ کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور اس طرح آپ کی سچائی کی شہادت دی۔ربط کلام ان معنوں کی تائید کرتا ہے۔(ریویو آف ریلیجنز ماه جون 1903 ء جلد 2 نمبر 6 صفحہ 244)