حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 405
405 حاجت ہے۔بدوں تکرار وہ روحانی پیوند اور رشتہ قائم نہیں رہتا۔حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک آیت اتنی مرتبہ پڑھتا ہوں کہ وہ آخر وحی ہو جاتی ہے۔صوفی بھی اسی طرف گئے ہیں اور وَاذْكُرُوا الله كَثِيرًا کے یہ معنے ہیں کہ اس قدر ذکر کرو کہ گویا اللہ تعالیٰ کا نام کنٹھ ہو جائے۔انبیاء علیہم السلام کے طرز کلام میں یہ بات عام ہوتی ہے کہ وہ ایک امر کو بار بار اور مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ان کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ تا مخلوق کو نفع پہنچے۔میں خود دیکھتا ہوں اور میری کتابیں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اگر چار صفحے میری کسی کتاب کے دیکھے جاویں تو ان میں ایک ہی امر کا ذکر پچاس مرتبہ آئے گا اور میری غرض یہی ہوتی ہے کہ شاید پہلے مقام پر اس نے غور نہ کیا ہو اور یونہی سرسری طور سے گذر گیا ہو۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 455 تا 457) وَلَقَدْ صَرَّفْنَهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا فَانّى اَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوْرًا۔(الفرقان: 51) اور ہم پھیر پھیر کر مثالیں بتلاتے ہیں تا لوگ یاد کر لیں کہ نبیوں کے بھیجنے کا یہی اصول ہے۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 652) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔(الانفال:46) تکرار۔۔۔۔بھی تو انسانی فطرت میں ہے کہ جب تک بار بار ایک بات کو دہرائے نہیں وہ یاد نہیں ہوتی۔سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى اور سُبُحَانَ رَبِّيَ الْعَظیمِ بار بار کیوں کہلوایا؟ ایک بار ہی کافی تھا۔نہیں اس میں یہی سر ہے کہ کثرت تکرار اپنا ایک اثر ڈالتی ہے اور غافل سے غافل قوتوں میں بھی ایک بیداری پیدا کر دیتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ اذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تم فلاح پا جاؤ جس طرح پر ذہنی تعلق ہوتا ہے اور کثرت تکرار ایک بات کو حافظہ میں محفوظ کر دیتی ہے اسی طرح ایک روحانی تعلق بھی ہے اس میں بھی تکرار کی حاجت ہے۔بدوں تکرار وہ روحانی پیوند اور رشتہ قائم نہیں رہتا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 456)