حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 396
396 بارہویں فصل تاثیرات قرآن کریم وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ايْتُنَا بَيِّنَتِ قَالُوْا مَا هَذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيْدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ابَاؤُكُمْ وَقَالُوْا مَا هَذَا إِلَّا إِفْكٌ مُفْتَرَى طَ وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَ هُمْ إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنَ۔(سبا:44) قرآن شریف کی اعلیٰ درجے کی تاثیروں کو بھی دیکھئے کہ کس قوت سے اس نے وحدانیت الہی کو اپنے سچے متبعین کے دلوں میں بھرا ہے اور کس عجیب طور سے اس کی عالیشان تعلیموں نے صد ہا سالوں کی عادات راسخہ اور ملکات رڈیہ کا قلع و قمع کر کے اور ایسی رسوم قدیمہ کو کہ جوطبیعت ثانی کی طرح ہو گئیں تھیں دلوں کے رگ وریشہ سے اٹھا کر وحدانیت الہی کا شربت عذب کروڑ ہا لوگوں کو پلا دیا ہے۔وہی ہے جس نے اپنا کار نمایاں اور نہایت عمدہ اور دیر پا نتائج دکھلا کر اپنی بینظیر تاثیر کی دو بدو شہادت سے بڑے بڑے معاندوں سے اپنی لاثانی فضیلتوں کا اقرار کرایا یہاں تک کہ سخت بے ایمانوں اور سرکشوں کے دلوں پر بھی اس کا اس قدراثر پڑا کہ جس کو انہوں نے قرآن شریف کی عظمت شان کا ایک ثبوت سمجھا اور بے ایمانی پر اصرار کرتے کرتے آخر اس قدر انہیں بھی کہنا پڑا کہ اِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ۔جز ونمبر 22۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 214-213 حاشیہ نمبر (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقُرْآنُ فَيْضًا خَفِيرٌ جَالِبٌ نَحْوَ الجنان لَهُ نُوْرَانِ نُوْرٌ مِنْ عُلُوْمٍ وَنُوْرٌ مِنْ بَيَانِ كَالْجُمان كَلامٌ فَائِقٌ مَا رَاقَ طَرْفِيْ جَمَالٌ بَعْدَهُ وَالنَّيران -1 طرف لے جاتا ہے۔-2 اور تو کچھ جانتا ہے کہ قرآن کریم فیض کی رو سے کیا چیز ہے۔وہ ایک راہبر ہے جو بہشت کی اس میں دونور ہیں ایک تو علوم کا نور ہے اور دوسرے فصاحت و بلاغت کا نور ہے جو چاندی کے دانوں کی طرح چمکتا ہے۔-3 وہ ایک ایسا کلام ہے جو ہر کلام پر فوقیت لے گیا ہے۔اس کے بعد مجھے کوئی جمال اچھا معلوم نہ ہوا۔اور نہ ہی آفتاب و قمر مجھے اچھے دکھائی دیئے۔نور الحق - ر-خ- جلد 8 صفحہ 89)