حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 397
397 إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِيْنَ۔لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ (التكوير : 2928) قرآن --- ذِکر لِلْعَلَمِینَ ہے یعنی ہر ایک قسم کی فطرت کو اس کے کمالات مطلوبہ یاد دلاتا ہے اور ہر یک رتبہ کا آدمی اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔جیسے ایک عامی ویسا ہی ایک فلسفی۔یہ اس شخص کے لئے اترا ہے جو انسانی استقامت کو اپنے اندر حاصل کرنا چاہتا ہے یعنی انسانی درخت کی جس قدر شاخیں ہیں یہ کلام ان سب شاخوں کا پرورش کرنے والا اور حد اعتدال پر لانے والا ہے اور انسانی قومی کے ہریک پہلو پر اپنی تربیت کا اثر ڈالتا ہے۔(کرامات الصادقین۔۔۔خ۔جلد 7 صفحہ 52) و و وَ يَخِرُّوْنَ لِلاذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُ هُمْ خُشُوْعًا۔(بنی اسرائیل: 110) اور روتے ہوئے مونہہ پر گر پڑتے ہیں اور خدا کا کلام ان میں فروتنی اور عاجزی کو بڑھاتا ہے۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 578) ° لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۔(الحشر: 22) یہ قرآن جو تم پر اتارا گیا اگر کسی پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ خشوع اور خوف الہی سے ٹکڑہ ٹکڑہ ہو جاتا اور یہ مثالیں ہم اس لئے بیان کرتے ہیں کہ تالوگ کلام الہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔سرمه چشم آریہ - ر- خ- جلد 2 صفحہ 63 حاشیہ) ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اتر تا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بیوقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور دوسرے اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اول تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہیئے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر مُتَصَدِّعًا ہو جاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے ایسا ہی اسکے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الہی نارضامندی تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور جتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔( ملفوظات جلد اول صفحه 511) قرآن کتاب رحمن سکھلائے راہِ عرفاں جو اس کو پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں ان پر خدا کی رحمت جو اس پہ لائے ایماں روز کر مبارک سبحان من برانی ہے چشمہ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت یہ ہیں خدا کی باتیں انسے ملے ولایت به نور دل کو بخشے دل کو کرے سرایت روز کر مبارک سبحان من برانی قراں کو یاد رکھنا پاک اعتقاد رکھنا فکر معاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا اکسیر ہے پیارے صدق و سداد رکھنا روز کر مبارک سبحان من برانی ( در مشین اردو صفحہ 36 ) ( محمود کی آمین مطبوعہ 7 جون 1897ء)