حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 376
376 قرآن کریم دنیا کی تمام اقوام کے لئے آیا ہے قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ۔(الاعراف: 159) قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعوی کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا یعنی تمام لوگوں کو کہدے کہ میں تم سب کے لیے رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر فرماتا ہے (کہ) وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: 108) یعنی میں نے تمام عالموں کے لیے تجھے رحمت کر کے بھیجا ہے اور پھر فرماتا ہے لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا (الفرقان (2) یعنی ہم نے اس لیے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعوی نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا۔دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لیے مامور نہ تھے یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں اس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی۔چشمہ معرفت صفحه - ر-خ- جلد 23 صفحہ 77-76) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا۔کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدودوقت یا مخصوض قوم کے لئے نہ تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا فل (یا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا اور وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔الحکم جلد 7 نمبر 20 مورخہ 31 مئی 1903 ء صفحہ 2)