حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 375
375 قرآن کریم گذشتہ تعلیموں کا مستم اور مکمل ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ انسان سہو ونسیان سے مرکب ہے اور نوع انسان میں خدا کے احکام عملی طور پر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے۔اسلئے ہمیشہ نئے یاد دلانے والے اور قوت دینے والے کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن قرآن شریف ان ہی دوضرورتوں کی وجہ سے نازل نہیں ہوا۔بلکہ وہ پہلی تعلیموں کا در حقیقت متم اور مکمل ہے۔مثلاً تو ریت کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے زیادہ تر قصاص پر ہے اور انجیل کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے عفو اور صبر اور درگذر پر ہے۔اور قرآن ان دونوں صورتوں میں محل شناسی کی تعلیم دیتا ہے۔ایسا ہی ہر ایک باب میں توریت افراط کی طرف گئی ہے اور انجیل تفریط کی طرف اور قرآن شریف وسط کی تعلیم کرتا اور محل اور موقعہ کا سبق دیتا ہے۔گونفس تعلیم متینوں کتابوں کا ایک ہی ہے۔مگر کسی نے کسی پہلو کوشد ومد کے ساتھ بیان کیا اور کسی نے کسی پہلو کو۔اور کسی نے فطرت انسانی کے لحاظ سے درمیانہ راہ لیا جوطریق تعلیم قرآن ہے۔اور چونکہ محل اور موقعہ کا لحاظ رکھنا یہی حکمت ہے۔سو اس حکمت کو صرف قرآن شریف نے سکھلایا ہے توریت ایک بیہودہ سختی کی طرف کھینچ رہی ہے۔اور انجیل ایک بیہودہ عفو پر زور دے رہی ہے۔اور قرآن شریف وقت شناسی کی تاکید کرتا ہے۔پس جس طرح پستان میں آکر خون دودھ بن جاتا ہے۔اسی طرح توریت اور انجیل کے احکام قرآن میں آ کر حکمت بن گئے ہیں۔اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا تو توریت اور انجیل اس اندھے کے تیر کی طرح ہوتیں کہ کبھی ایک آدھ دفعہ نشانہ پر لگ گیا اور سو دفعہ خطا گیا۔غرض شریعت قصوں کے طور پر توریت سے آئی اور مثالوں کی طرح انجیل سے ظاہر ہوئی اور حکمت کے پیرایہ میں قرآن شریف سے حق اور حقیقت کے طالبوں کو ملی۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔رخ۔جلد 12 صفحہ 359 مع حاشیہ ) یختی اور نرمی اپنے اپنے زمانہ اور قوم کی موجودہ حالت کے لحاظ سے مناسب تعلیم تھی مگر حقیقی تعلیم نہیں تھی جو قابل ترک نہ ہو۔منہ