حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 339
339 هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه - (الصف: 10) میں رسالہ فتح اسلام میں کسی قدر لکھ آیا ہوں کہ اسلام کے ضعف اور غربت اور تنہائی کے وقت میں خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تا میں ایسے وقت میں جو اکثر لوگ عقل کی بد استعمالی سے ضلالت کی راہیں پھیلا رہے ہیں اور روحانی امور سے رشتہ مناسبت بالکل کھو بیٹھے ہیں اسلامی تعلیم کی روشنی ظاہر کروں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ اسلام اپنا اصلی رنگ نکال لائے گا اور اپنا وہ کمال ظاہر کرے گا جس کی طرف آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه میں اشارہ ہے سنت اللہ اسی طرح واقع ہے کہ خزائن معارف و دقائق اسی قدر ظاہر کئے جاتے ہیں جس قدر ان کی ضرورت پیش آتی ہے سو یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے جو اس نے ہزار ہا عقلی مفاسد کو ترقی دے کر اور بے شمار معقولی شبہات کو بمنصہ ظہور لا کر بالطبع اس بات کا تقاضا کیا ہے کہ ان اوہام واعتراضات کے رفع دفع کے لئے فرقانی حقائق و معارف کا خزانہ کھولا جائے بے شک یہ بات یقینی طور پر ماننی پڑے گی کہ جس قد ر حق کے مقابل پر اب معقول پسندوں کے دلوں میں اوہام باطلہ پیدا ہوئے ہیں اور عقلی اعتراضات کا ایک طوفان برپا ہوا ہے اس کی نظیر کسی زمانہ میں پہلے زمانوں میں سے نہیں پائی جاتی۔لہذا ابتداء سے اس امر کو بھی کہ ان اعتراضات کا براہین شافیہ وکافیہ سے بحوالہ آیات قرآن مجید بکلی استیصال کر کے تمام ادیان باطلہ پر فوقیت اسلام ظاہر کر دی جائے اسی زمانہ پر چھوڑا گیا تھا کیونکر پیش از ظهور مفاسدان مفاسد کی اصلاح کا تذکرہ محض بے محل تھا۔اسی وجہ سے حکیم مطلق نے ان حقائق اور معارف کو اپنی کلام پاک میں مخفی رکھا اور کسی پر ظاہر نہ کیا جب تک کہ ان کے اظہار کا وقت آ گیا۔ہاں اس وقت کی اس نے پہلے سے اپنی کتاب عزیز میں خبر دے رکھی تھی جو آیت هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدی میں صاف اور کھلے کھلے طور پر مرقوم ہے۔سواب وہی وقت ہے اور ہر یک شخص روحانی روشنی کا محتاج ہو رہا ہے سو خدائے تعالے نے اس روشنی کو دیکر ایک شخص کو دنیا میں بھیجاوہ کون ہے؟ یہی ہے جو بول رہا ہے۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 515-514) قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادٍ اً لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفِدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا۔(الكهف : 110) یعنی اگر خدا کی کلام کے لکھنے کے لئے سمندر کو سیاہی بنایا جائے تو لکھتے لکھتے سمند رختم ہو جائے اور کلام میں کچھ کمی نہ ہو۔گو ویسے ہی اور سمندر بطور مدد کے کام میں لائے جائیں۔رہی یہ بات کہ ہم لوگ ختم ہونا وحی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کن معنوں سے مانتے ہیں سو اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ گو کلام الہی اپنی ذات میں غیر محدود ہے لیکن چونکہ وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے کلام الہی نازل ہوتی رہی یا وہ ضرور تیں کہ جن کو الہام ربانی پورا کرتا رہا ہے وہ قدر محدود سے زیادہ نہیں ہیں اس لئے کلام الہی بھی اسی قدر نازل ہوئی ہے کہ جس قدر بنی آدم کو اس کی ضرورت تھی۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 101-100 حاشیہ نمبر 9)